’سپاٹ فکسنگ فیصلہ نئے لڑکوں کے لیے مثال‘

شاہد آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بات کرسی یا کپتانی کی نہیں بلکہ پاکستان ٹیم کی ہے:شاہد آفریدی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ سپاٹ فکسنگ مقدمے میں پاکستانی کھلاڑیوں پر جرم ثابت ہونا اور ان کی ممکنہ سزائیں نئے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے تنبیہی مثال ثابت ہوں گی۔

لاہور میں بدھ کو پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے سے ہمارے ملک اور کرکٹ کی کافی بدنامی ہوئی ہے اور یہ ایک سبق ملا ہے جو آنے والے لڑکوں کے لیے ایک مثال ہوگی‘۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر افسوس ہے کیونکہ ’یہ ایک ایسا دھبہ ہے جو ایک دفعہ لگ جائے تو ساری زندگی کے لیے ہوتا ہے‘۔

پاکستانی ٹیم کے لیے اپنی دستیابی پر بات کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ وہ پوری طرح فٹ ہیں اور اگر اُنہیں سری لنکا کے خلاف ہونے والی سیریز میں موقع دیا گیا تو وہ ضرور کھیلیں گے۔

شاہد آفریدی نے کہا پرفارمنس کا دباؤ تو ہوتا ہے لیکن مزہ بھی دباؤ میں کھیلنے کا آتا ہے اور وہ اچھا پرفارم کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے مصباح الحق سے تعلقات بہت اچھے ہیں اور جب وہ کپتان تھے تو ان کے اور مصباح کے درمیان تال میل بہت اچھا تھا اور انہیں مصباح الحق کی کپتانی میں کھیلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی کپتانی ایسے ہی ہے جیسے کوئی قربانی کا بکرا ہو اور وہ ایک دفعہ قربانی کا بکرا بن چکے ہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا بات کرسی یا کپتانی کی نہیں بلکہ پاکستان ٹیم کی ہے اور جس طرح ٹیم کھیل رہی ہے وہ امید کرتے ہیں کہ ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں بھی ٹیم اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کرےگی ۔

ان کا کہنا تھا بیٹنگ ، فیلڈنگ ، اور باؤلنگ کا الگ الگ کوچ ہونا ایک اچھا فیصلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کوچ چاہے ملک کا ہو یا غیر ملکی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کوچ وہ ہونا چاہیے جس نے کورسز کیے ہوں اور وہ کوچنگ کے بارے میں جانتا ہو ۔

وقار یونس کے استعفے کے بارے میں سوال پر شاہد آفریدی نے کہا وہ نہیں سمجھتے کہ وقار یونس کو بیماری کا کوئی مسئلہ تھا لیکن وہ وقار یونس کےاستعفی کی وجوہات نہیں جانتے۔

اسی بارے میں