کرکٹرز کو سزائیں بکروں کو بھی مات دے گئیں

سزائیں تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سزائیں اس طرح لکھ کر دکھائی گئیں جیسے بکرا پیڑی میں بکروں کی قیمتیں لکھ کر لگا دی گئی ہوں۔

پاکستان میں ہر برس ان دنوں میں بکرے اور ان کی قیمتیں سب سے بڑا موضوع ہوتے ہیں لیکن اس سال میچ یا سپاٹ فکسنگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ملوث ہونے کے مقدمے نے لگتا ہے کہ پوری قوم کے دل و دماغ کو یرغمال بنا لیا ہے۔

ہر طرف یہی بات ہو رہی ہے، گھروں میں، حجام کی دکانوں پر، بازاروں میں، تھڑوں پر، کرکٹ کے میدانو، دفتروں، غرض ہر جگہ آصف عامر اور سلمان کی سزائیں زیر بحث ہیں۔

کوئی اپنے غم و غصے کا اظہار کرتا ہے تو کوئی کرکٹرز ملنے والی سزاؤں پر برہم ہے۔ کسی کو یہ سزائیں کم لگتی ہیں تو کسی کو سزاؤں میں یہود و ہنود کی سازش نظر آتی ہے۔

کوئی محمد عامر کی کم عمری پر افسوس کرتا ہے تو کسی کو اس پاکستانی پر غصہ ہے جس نے ان کرکٹرز کو پھانسنے کے لیے جال بچھایا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول بات یہ ہے کہ ’ان کو سزائیں ملنے سے باقیوں کو عبرت ہوگی‘۔

الیکٹرونکس کی دکان کے مالک عبدالرحمان نے کہا کہ ’اصل میں کرکٹ ہمارا جنون ہے رات کو سوتے ہیں تو کرکٹ کا سوچتے ہیں، صبح اٹھ رہے ہیں تو کرکٹ کے بارے میں سوچ رہے ہیں،گلی میں کھڑے ہیں تو سامنے گراؤنڈ میں ہونے والے کرکٹ میچ کو دیکھ رہے ہیں۔ قومی کھیل ہمارا ہاکی ہے لیکن شوق ہم سب کو کرکٹ کا ہے‘۔

پاکستان میں کرکٹ شائقین تو پہلے روز سے ہی تینوں کھلاڑیوں کے مقدمے میں دلچسپی رکھے ہوئے تھے لیکن جیسے ہی مقدمے کی حتمی کارروائی سامنے آئی عام لوگ بھی ٹیلی ویژن کے دیوانے ہوگئے۔

ٹی وی چینلز نے بھی کرکٹ مبصرین اورقانونی ماہرین کی آرا بار بار چلائیں۔

مقدمے کی چھوٹی چھوٹی تفصیل کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کیا، پھر اس پر تبصرہ اور تبصرے پر رائے پیش کی جانے لگی۔

محمد افتخار ٹی وی ٹیکنشین بھی ہیں اور سات برس سے کرکٹ کھیل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ’جو ٹی وی چینل لگا لو اس پر انہی تین کھلاڑیوں کا ذکر ہے، کھی بتایا جاتا ہے کہ جیوری نے فیصلہ دیدیا پھر جج کا فیصلہ آجاتا ہے۔ جب ہر چینل پر خبر ہی یہ ہوگی تو پھر لوگ تو اس پر بات کریں گے‘۔

لاہور کے ایک اے سی ٹیکنشن شعیب مشتاق کا کہنا ہے ’یہ سب فضول باتیں ہیں، کام دھندا ہے کوئی نہیں اور لوگ کرکٹ کی باتیں لے کر بیٹھ جاتے ہیں‘۔

رانا وسیم سٹامپ فروش ہیں اور پراپرٹی ڈیلرز کے نزدیک اپنا ٹھیّہ لگاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ’جب بکرعید قریب آئی تو یہ ایشو اٹھا دیا گیا۔ہر ٹی وی چینل پر چلا جب پوری قوم دیکھے گی تو باتیں تو کرے گی‘۔

ایک مقامی بنک کے ملازم عمیر نے کہا کہ ’اس کیس میں پاکستان کی بدنامی ہے اسی لیے سب اس کے بارے میں بات کرتے ہیں‘۔

دھرم پورہ کرکٹ کلب کے کھلاڑی اور کوچ اعجاز احمد سپورٹس کٹ پہنے جاتے ہوئے سرراہ ملے۔

انہوں نے کہا کہ ’چونکہ اس سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے اس لیے ایک سازش کے تحت ٹی وی چینلز بار بار اسی خبر کو دکھا اور سنا رہے ہیں‘۔

ادویات کے سیلز مین محمد نعیم نے کہا کہ ’یہ سب بے فضول (یعنی فضول) ہے۔ ملک کے بارے میں بات ہونی چاہیے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، غربت ہے، کاروبار ہے نہیں، تو لوگوں کو کرکٹ کی پڑی ہے۔ نہ تو میں نے کرکٹ کھیلنی ہے نہ آپ نے کرکٹ کھیلنی ہے تو پھر ان باتوں کا کیا فائدہ ہے‘۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جس قوم کے لیے بم دھماکوں اور خود کش حملوں جیسی خبریں معمول بن گئی ہوں اس کے لیے تین کرکٹرز کی سزائیں بہت اہم خبر بن جاتی ہے۔

اسی بارے میں