صدمہ اور تکلیف ہوئی ہے: عمران خان

Image caption پاکستانی کھلاڑیوں کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے جانے کی خبر سے دلی دکھ ہوا ہے: عمران خان

پاکستان کے سابق کپتان عمران خان نے کہا ہے کہ تین کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے جانے کی خبر سن کر انہیں دلی صدمہ ہوا ہے۔

عمران خان نےکہا کہ انہیں سزا پانے والے کھلاڑیوں کےخاندان والوں سے ہمدردی ہے۔’مجھے کھلاڑیوں پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ ان کا تعلق پاکستان سے ہیں جہاں ملک کے صدر کے خلاف بھی کرپشن کے بڑے بڑے مقدمات ہیں اور ان کھلاڑیوں نے بھی سوچا ہوگا کہ جرم کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ برطانوی عدالت کا فیصلے سے پاکستانی کرکٹ کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور اب انہیں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔‘

عمران خان نے سابقہ چیئرمین کرکٹ بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو ختم کرنے کی بجائے دبانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر کا دکھ ہے۔ ’وہ شاید اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوگیا تھا۔‘

پاکستان کے ایک اور سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا کہ انہیں سزا پانے والے کھلاڑیوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔

’میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ جب باقی ٹیم میچ جیتنے کی کوشش کر رہی ہو ہے تو ان میں سے کچھ کھلاڑی اپنی ضمیر کا سودا کرنے کی کوشش کر رہے ہوں تو ایسے کھلاڑیوں کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

رمیز راجہ نے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے پاکستانی کرکٹ اور پاکستانی شائقین کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔

رمیز راجہ کے خیال میں اس فیصلے سے پاکستان کی کرکٹ کو فائدہ ہوگا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ انہیں ان کھلاڑیوں کے خاندانوں سے ہمدردی ہے لیکن ایسے عناصر سے چھٹکارا ضروری ہے۔

رمیز راجہ نےکہا پاکستان کی کرکٹ کو ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو اپنے ملک کی باوقار انداز میں نمائندگی کر سکیں۔

سابق کپتان اور کوچ وقار یونس نے کہ یہ کرکٹ کا بدنما پہلو ہے۔ وقار یونس اس وقت کرکٹ ٹیم کے کوچ تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ کھلاڑی اس فعل میں مبتلا ہوں گے۔اگر مجھے ذر بھی اندازہ ہوتا تو ہم ایسا نہ ہونے دیتے ۔‘

وقار یونس نے کہا کہ انہیں برطانیہ کے فوجداری نظام کا پتہ نہیں ہے لیکن کرکٹ کے کھلاڑیوں کوجیل بھیجنا کرکٹ اور پاکستان کے لیے افسوس ناک ہے۔