’سفارتی کوششوں نے آصف کو بچا لیا تھا‘

محمد آصف تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption محمد آصف ایک متنازعہ کھلاڑی رہے ہیں

سپاٹ فکسنگ معاملے میں ایک سال قید کی سزا پانے والے محمد آصف تین سال پہلے جیل جانے سے بچ گئے تھے جس کی وجہ سفارتی سطح پر ہونے والی کوششیں تھیں۔

یکم جون سنہ 2008 کو محمد آصف کو دبئی ائرپورٹ پر اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب ان کے بٹوے سے ممنوعہ شے برآمد ہوئی تھی ۔

محمد آصف کا دعوی تھا کہ یہ ایک حکیمی دوا تھی جو انہوں نے اپنے پاس رکھی تھی لیکن دبئی حکام نے لیبارٹری تجزیے کے بعد اس بات کی تصدیق کی تھی کہ محمد آصف سے برآمد ہونے والی شے افیون تھی جس کی مقدار صفر اعشاریہ دو چار گرام تھی۔

محمد آصف انیس روز دبئی پولیس کی حراست میں رکھے جانے کے بعد ڈی پورٹ کر دیے گئے تھے۔

محمد آصف کو سخت سزا سے بچانے اور وطن بھیجنے میں اہم کردار ادا کرنے والے متحدہ عرب امارات میں اس وقت کے پاکستانی سفیر احسان اللہ خان تھے۔

احسان اللہ خان نے بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر سفارتی کوششیں نہ کی جاتیں اور محمد آصف کو پاکستانی سفارت خانے کی مدد نہ ملتی تو انہیں سخت سزا ہو سکتی تھی اور وہ جیل بھی جا سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے پاکستان کے وقار کو دھچکا پہنچا تھا ۔ پاکستانی حکام اور پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتے تھے کہ محمد آصف کو کسی نہ کسی طرح دبئی سے فوراً نکالا جائے جس پر انہوں نے وقت ضائع کیے بغیر دبئی حکومت سے اپنے ذاتی تعلقات اور حکومتی اثر کی بنا پر بات کی تھی۔

احسان اللہ خان کہتے ہیں کہ وہ ایک پیچیدہ صورتحال تھی کیونکہ آصف کی وکالت کرنے پر یہ باتیں سننے کو مل رہی تھیں کہ امارات کی جیلوں میں دوسرے پاکستانی بھی تو قید ہیں پھر ایک کرکٹر پرنظر کرم کیوں؟

ان کے مطابق یہ سوچ عام سطح تک محدود نہیں تھی بلکہ دوسرے ملکوں کے سفارت کاروں نے بھی دبئی کےحکمرانوں سے کہا تھا کہ پاکستانی سفیر سے خاص سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟ کیونکہ ان کے ملکوں کے بھی کئی لوگ جیلوں میں اسی الزام میں بند ہیں۔

احسان اللہ خان کا کہنا ہے کہ وہ دبئی حکومت کے شکرگزار تھے کہ اس نے آصف کو مقدمہ چلائے بغیر چھوڑدیا اور وہ انہیں پاکستان جانے والے جہاز پر سوار کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

اس سوال پر کہ اس تمام واقعے کے دوران محمد آصف کا کیا رویہ رہا؟۔ سابق سفیر کہتے ہیں آصف سے ان کی بات ہوتی رہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں صحیح تحقیقات نہیں ہوئی لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غلطی ہوگئی ۔

اسی بارے میں