سابق جج پاکستان کرکٹ بورڈ سے ناخوش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد عامرجیسے غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل بولر کا کریئر ہی تباہ ہوگیا: جسٹس ملک قیوم

کرکٹ میں بدعنوانی جیسے اپنی نوعیت کے پہلے فوجداری مقدمے میں پاکستانی کرکٹرز کی قسمت کا فیصلہ ہوچکا۔ بات لندن کے لارڈز گراؤنڈ سے شروع ہوئی تھی اور اس کا اختتام بھی لندن ہی کی ایک عدالت میں ہوا۔

فیصلہ برطانوی جج نے دیا لیکن اسے محسوس کرنے والے پاکستانی جج صاحبان بھی ہیں۔ یہ وہ جج حضرات ہیں جنہوں نے خود پاکستانی کرکٹ میں کرپشن کی تحقیقات بھی کی ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی جج صاحبان کی کرکٹ کرپشن کے خلاف تحقیقات کے باوجود پاکستانی کرکٹ اپنی صحیح سمت کیوں متعین نہ کرسکی؟۔

میں نے یہ سوال پاکستانی کرکٹ میں پہلی انکوائری کرنے والے جسٹس فخرالدین جی ابراہیم سے کیا تو انہوں نے اس کی ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ پر عائد کردی۔

جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کہتے ہیں’ کرکٹ میں بے پناہ پیسہ آچکا ہے اور اب یہ کھیل کے بجائے کاروبار بن چکا ہے۔اس میں بہت زیادہ دھاندلی ہونے لگی ہے۔ صرف یہیں نہیں بھارت میں بھی یہی صورتحال ہے۔ یہ نئی بیماری نہیں ہے اگر ہم اپنے ملک کی بات کرتے ہیں تو یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کرکٹرز کو روشن مثال بنانے کر پیش کرے ان کی اخلاقی تربیت کرے اور کھیل میں کرپشن کے خاتمے کو یقینی بنائے لیکن چونکہ کرکٹ بورڈ میں بھی سیاسی تقرریاں ہوتی ہیں اور میرٹ کو بالائے طاق رکھ دیاگیا ہے اس لیے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔‘

لندن کی عدالت کے فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟۔

اس سوال پر فخرالدین جی ابراہیم کہتے ہیں’انہیں افسوس ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ججوں کی سفارشات پر توجہ نہیں دی لیکن یہ عدالتی فیصلہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح کا ایک اہم فیصلہ ہے اور اس سے دوسرے کرکٹرز عبرت پکڑیں گے اور کسی بھی غیرقانونی حرکت سے پہلے اپنے انجام کا سوچیں گے۔ مستقبل میں اس فیصلے کا بہت گہرا اثر سامنے آئے گا۔‘

جسٹس اعجاز یوسف وہ دوسرے جج ہیں جنہیں پاکستانی کرکٹ میں بدعنوانی کے الزامات کی انکوائری کرنے کا موقع ملا تھا۔

میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے وسیم اکرم، سلیم ملک اور اعجاز احمد کو ٹیم سے دور رکھنے کی سفارش کی تھی اس پر عمل کیوں نہ ہوسکا؟۔

جسٹس اعجاز یوسف کہتے ہیں’انکوائری اور انویسٹیگیشن میں فرق ہوتا ہے۔ انویسٹیگیشن میں شواہد اکٹھے کئے جاتے ہیں جبکہ انکوائری میں دیکھا جاتا ہے کہ مدعی جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں کتنی سچائی ہے۔

’ہم نے انکوائری کی تھی کیونکہ فاسٹ بولر عطاء الرحمن کی جانب سے میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے تھے۔اس انکوائری کے نتیجے میں ہم نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا تھا کہ وسیم اکرم، سلیم ملک اور اعجاز احمد پر الزامات سامنے آئے ہیں لہذٰا ان تینوں کو فی الحال ٹیم سے دور رکھا جائے اور ممکن ہو تو ایک نئی ٹیم تشکیل دے دی جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’بورڈ کے چیئرمین خالد محمود اس بارے میں کافی سنجیدہ تھے۔ اسی دوران جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سینیٹ کی ایک کمیٹی بھی کرکٹ میں کرپشن کی تحقیقات کررہی تھی اور پھر جسٹس قیوم پر مشتمل عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا گیا اور ہماری انکوائری ادھوری رہ گئی، ہم تو چاہتے تھے کہ کرکٹ کو کرپشن سے پاک کیا جائے لیکن حالات دوسرا رخ اختیار کرگئے۔‘

اس سوال پر کہ جن کرکٹرز کے آپ نے نام لیے ان کے خلاف الزامات میں کتنا دم خم تھا؟

جسٹس اعجاز یوسف نے جواب دیا ’دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں آگ لگی ہو۔ اس انکوائری میں کئی کھلاڑی ہمارے سامنے پیش ہوئے تھے اور بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔‘

پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ کی سب سے بڑی تحقیقات جسٹس قیوم کمیشن کے نام سے جانی جاتی ہیں۔

میں نے جسٹس ملک محمد قیوم سے رابطہ کیا جو ان دنوں حج کے سلسلے میں سعودی عرب میں ہیں اور پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ تھا کہ پاکستانی کرکٹرز کرپٹ ہیں یا ہوسکتے ہیں آپ نے کس بنیاد پر ان کے اثاثوں اور آمدنی پر نظر رکھنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا تھا؟

جسٹس ملک محمد قیوم کہنے لگے ’ کرکٹرز جب نوعمری میں بین الاقوامی کرکٹ میں آتے ہیں تو شہرت اور پیسہ دیکھ کر انہیں خود کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ان کا دماغ خراب ہوجاتا ہے۔‘

ان کے بقول ’اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے ضروری سمجھا تھا کہ کرکٹرز کو لالچ سے بچانے کے لیے ان کے مالی گوشوارے اور اثاثے پاکستان کرکٹ بورڈ وقتاً فوقتاً چیک کرتا رہے لیکن میری سفارشات پر جتنے بھی کرکٹ بورڈ آئے انہوں نے توجہ ہی نہیں دی اور انہیں نظرانداز کرتے رہے جس کا خمیازہ پاکستانی کرکٹ کو اب بھگتنا پڑا اور محمد عامرجیسے غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل بولر کا کریئر ہی تباہ ہوگیا۔‘

اسی بارے میں