شارجہ:یونس خان کی سنچری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یونس خان نے ذمہ دارانہ انداز میں ٹیم کو سنبھالا دیا

شارجہ میں پاکستان اور سری لنکا کے مابین کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز پاکستانی بلے بازوں نے پراعتماد انداز میں بلے بازی کی ہے اور یونس خان کی سنچری کی بدولت سری لنکا کی پہلی اننگز میں برتری صرف ایک سو اکتیس رنز رہ گئی ہے۔

تیسرے دن کھیل ختم ہونے تک پاکستان نے دو سو بیاسی رنز بنائے تھے اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

تیسرے دن کے کھیل کی خاص بات سابق کپتان یونس خان کی سنچری تھی انہوں نے ایک سو بائیس رنز سکور کیے۔ کپتان مصباح الحق نے نصف سنچری سکور کی اور وہ آؤٹ نہیں ہوئے تھے۔

کھیل کے اختتام پر ان کے ساتھ کریز پر عبدالرحمان موجود تھے۔ مصباح الحق کے علاوہ اظہر علی نے بھی نصف سنچری سکور کی۔

نوجوان کھلاڑی اسد شفیق کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور انہوں نے سولہ رنز سکور کیے۔

وکٹ کپیر عدنان اکمل صرف سات رنز بنا پائے اور ہیراتھ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

کھیل کے پہلے سیشن میں پاکستان کے یونس خان اور اظہر علی نے عمدہ بلے بازی کی اور سری لنکن بولرز کو کوئی وکٹ نہیں لینے دی۔

ان دونوں نے نصف سنچریاں مکمل کیں اور ان کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے اٹھانوے رنز کی شراکت ہوئی۔

پاکستان کو دن کا پہلا اور مجموعی طور پر تیسرا نقصان کھانے کے وقفے کے بعد اظہر علی کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ وہ ترپّن رنز بنانے کے بعد کلاسیکرا کی پہلی وکٹ بنے۔

دوسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے دو وکٹ کے نقصان پر پینتیس رنز بنائے تھے۔

تیسرے ٹیسٹ میں سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز میں کماراسنگاکارا کی شاندار سنچری کی بدولت چار سو تیرہ رن بنائے تھے۔ سنگاکارا سری لنکن اننگز کے ٹاپ سکورر رہے اور ایک سو اکتالیس رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بالر سعید اجمل رہے، جنہوں نے چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ عمر گل نے تین، جنید خان نے دو جبکہ عبدالرحمان نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر سے برتری حاصل ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا جبکہ دوسرا ٹیسٹ میچ پاکستان نو وکٹوں سے جیت گیا تھا۔

اسی بارے میں