آئی سی سی ٹریبونل کا تفصیلی فیصلہ عید کے بعد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تین پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں اپنے ٹریبونل کا تفصیلی فیصلہ آئندہ چند روز میں جاری کرنے والی ہے۔

واضح رہے کہ یہ تفصیلی فیصلہ لندن پولیس کی تحقیقات اور معاملہ عدالت میں چلے جانے کے سبب روک لیا گیا تھا۔

آئی سی سی کے اس تین رکنی ٹریبونل نے جس کے سربراہ مائیکل بیلوف تھے اس سال فروری میں قطر کے شہر دوحا میں ہونے والی سماعت کے بعد سلمان بٹ کو دس سال، محمد آصف کوسات سال اور محمد عامر کو پانچ سال پابندی کی سزا سنائی تھی۔

تینوں پاکستانی کرکٹرز نے آئی سی سی ٹریبونل کی جانب سے پابندی کے اس فیصلے کو سوئٹز لینڈ میں کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کررکھا ہے۔

آئی سی سی ٹریبونل کا فیصلہ آنے سے ایک دن پہلے کراؤن پراسیکیوشن سروس نے اعلان کیا تھا کہ تینوں کرکٹرز اور ان کے مبینہ ایجنٹ مظہر مجید کو لندن کی عدالت میں فوجداری مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔

لندن کی عدالت اس مقدمے میں گزشتہ دنوں ان چاروں کو دھوکہ دہی اور غیرقانونی رقم کی وصولی میں مجرم قرار دیتے ہوئے قید کی سزائیں سناچکی ہے۔

سلمان بٹ کو ڈھائی سال ،محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ہارون لورگاٹ نے لندن کی عدالت کے فیصلے کے بعد یہ بات واضح کردی تھی کہ اس کا ان پابندیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو آئی سی سی ان کرکٹرز پر پہلے ہی عائد کرچکی ہے۔

ہارون لورگاٹ نے کہا تھا کہ عدالتی فیصلہ آئی سی سی کے ٹریبونل کے فیصلے سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔