اعصام بوپنا جوڑی کو نظر نہ لگ جائے؟

اعصام اور بوپنا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میں بھی اس طرح کی باتیں سن رہا ہوں لیکن میں اگلے سال کے بارے میں پریشان نہیں ہوں: اعصام الحق

پاکستان کے اعصام الحق اور بھارت کے روہن بوپنا حالیہ برسوں میں انٹرنیشنل ٹینس کی سب سے مشہور اور حریف کھلاڑیوں کے لیے خطرے کی علامت جوڑی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یہ دونوں کھلاڑی اس وقت لندن میں سیزن کے آخری اور سب سے بڑے ٹورنامنٹ یعنی اے ٹی پی ٹور فائنلز میں شریک ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں عالمی رینکنگ کے آٹھ بہترین ڈبلز کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ ہے۔

لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں بھی آئی ہیں کہ چونکہ مہیش بھوپتی اور لینڈر پیئس کی جوڑی ٹوٹ رہی ہے لہٰذا ان میں سے کوئی ایک روہن بوپنا کو اپنا پارٹنر بنانے میں دلچسپی رکھتاہے۔

تو کیا نئی بھارتی جوڑی بنانے کے لیے ’پاک بھارت ایکسپریس‘ جوڑی اس کی بھینٹ چڑھ جائے گی؟

اعصام الحق اس بارے میں فی الحال محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔

’میں بھی اس طرح کی باتیں سن رہا ہوں لیکن میں اگلے سال کے بارے میں پریشان نہیں ہوں۔ میں طویل عرصے کے پروگرام نہیں بناتا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ روہن کے ساتھ ہی کھیلتا رہوں کیونکہ نہ صرف ہم دونوں اچھا کھیل رہے ہیں بلکہ امن کا پیغام بھی عام کررہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’فی الحال میری توجہ اے ٹی پی ٹور فائنلز پر مرکوز ہے کیونکہ دوسری چیزیں سوچنے سے ہماری ٹیم سپرٹ متاثر ہو سکتی ہے۔ ہم اس مقام پر سخت محنت کر کے پہنچے ہیں اور صرف ہم دونوں کھلاڑیوں کی ہی نہیں اس میں ہمارے کوچنگ اسٹاف کی بھی بھرپور محنت شامل ہے۔‘

اعصام الحق سے جب پوچھا گیا کہ آیا لندن اولمپکس تو اس کی وجہ نہیں، تو ان کا کہنا تھا ’اگلے سال اولمپکس ہیں اور روہن بوپنا کو کسی بھارتی کے ساتھ اپنی جوڑی بنانی ہے جس کے لیے ان کی بات چیت چل رہی ہے۔ لیکن ہم دونوں اس ٹورنامنٹ کے بعد بیٹھ کر اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔‘

اعصام الحق اے ٹی پی ٹورفائنلز میں اپنی شرکت کو حقیقت میں بدلنے والے خواب سے تعبیر کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جن کھلاڑیوں کو ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے آج انہی بڑے ناموں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

’اس سے بڑھ کر خوشی کی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ میں اچھا کھیل کر ہی آج اس ایونٹ تک پہنچا ہوں اور یہ اتفاقیہ نہیں ہے۔ پیرس ماسٹرز جیتنے سے ہم دونوں کا مورال بلند ہے۔ ہم نے تقریباً تمام ہی بڑے کھلاڑیوں کو ہرایا ہے۔ پہلے ہم سوچتے تھے کہ ہم ایسا کرسکتے ہیں لیکن اب ہم نے یہ کر لیا ہے۔چونکہ یہ ہمارا پہلا ٹور فائنلز ہے لہٰذا ہمیں اپنے اعصاب پر قابو رکھنا ہوگا۔‘

اعصام الحق سے میں نے لندن اولمپکس میں ان کی شرکت کے بارے میں معلوم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی عالمی رینکنگ ٹاپ دس میں رہی تو وہ براہ راست اولمپکس میں حصہ لے سکتے ہیں۔

’پاکستان ٹینس فیڈریشن کی غلطی کی وجہ سے بیجنگ اولمپکس میں مجھے وائلڈ کارڈ نہ مل سکا۔اس مرتبہ صورتحال یہ ہے کہ اگر آئندہ سال جون میں میری ڈبلز رینکنگ ٹاپ دس میں رہی تو میں کسی بھی دوسرے پاکستانی کھلاڑی کے ساتھ اولمپکس میں حصہ لے سکتا ہوں۔‘

اسی بارے میں