’روایتی کھیل جدید دور کی چكاچوند میں گُم‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دیہاتوں سے جڑے ان کھیلوں کو بس اپنے لیے تھوڑی سی جگہ چاہیے

تیز رفتار اور پرجوش فارمولا ون ریسنگ ہو یا عالمی فٹبال ٹیموں کی آمد گزشتہ کچھ عرصے میں گلیمر اور پیسے والے نئے کھیل بھارت میں جگہ بنا رہے ہیں۔

لیکن اس سب کے بیچ بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں کئی روایتی کھیل پیچھے رہ گئے ہیں اور شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ بھارت میں گزشتہ بیس دن سے کبڈی کا ورلڈ کپ ہو رہا ہے۔

دیہات کی مٹی میں رچا بسا کبڈی کا کھیل بہت دلچسپ ہوتا ہے اور اس میں جہاں مخالف کو ہرانے کے لیے جسمانی طاقت کی ضرورت ہے وہیں دماغي کھیل بھی اہم ہے کہ کس طرح سامنے والے کو چكمہ دیا جائے اور اسے گھیرے میں پھنسایا جائے۔

اس روایتی کھیل میں بین الاقوامی سطح پر بھارت 1990 سے ہر ایشیائی کھیل میں چیمپیئن رہا ہے اور تین بار وہ عالمی چمپیئن بھی بن چکا ہے۔ اس سال بھی بھارتی ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔

ہمسایہ ملک پاکستان کی کارکردگی بھی اس کھیل میں بہت اچھی رہی ہے اور حالیہ ورلڈ کپ میں اسے سیمی فائنل مقابلے میں شکست ہوئی ہے۔

لیکن کبڈی سے وابستہ کھلاڑیوں اور حکام کو ملال ہے کہ انہیں وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہیں۔ بھارتی کبڈی ٹیم کے منیجر گرديپ سنگھ ملہي کہتے ہیں کہ ایران سے ایشیائی سرکل کبڈی میں گولڈ میڈل جیت کر جب بھارتی ٹیم وطن واپس آئی تو اس کا استقبال کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔

پاکستان کے دیہاتی علاقوں خصوصاً صوبہ پنجاب میں بھی یہ کھیل خوب مشہور رہا ہے لیکن اب وہاں بھی صورت حال اتنی اچھی نہیں ہے۔

پاکستانی کبڈی ٹیم کے سابق کپتان محمد سرور ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب کبڈی کا شہرہ تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’کبڈی بہت آسان اور بہترین کھیل ہے۔ لوگ بہت شوق سے دیکھتے تھے اسے۔ اس میں تھرل ہے ، پاور ہے ، طاقت ہے۔ عمدہ کھلاڑی کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے‘۔

ان کے مطابق ’جب میں کبڈی کپتان تھا تو ہم انگلینڈ کے دورے پر جاتے تھے. وہاں ایشیائی ہی نہیں برطانوی بھی شوق سے اسے دیکھتے تھے۔ چھوٹے شہروں میں تو ٹریفک جام ہو جاتا تھا. برسوں پہلے بھی یہ کھیل جیسے کھیلا جاتا تھا ، آج بھی ویسا ہی ہے. کوئی پیڈ نہیں کوئی دستانے نہیں بس طاقت اور دماغ کا کھیل ہے‘۔

آخر کیا وجہ ہے کہ کسی زمانے میں انتہائی مقبول یہ روایتی کھیل جدید دور کی چكاچوند میں کھو سا گیا ہے۔

کھیلوں سے وابستہ صحافی جسوندر سدھو کے خیال میں’اس کے لیے کئی چیزیں ذمہ دار ہیں۔ میڈیا نے دھیرے دھیرے کرکٹ جیسے کھیلوں پر توجہ مرکوز کر لی اور روایتی کھیلوں کو جگہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ گاؤں میں ان کا کیبل جاتا ہے اور نہ ہی گاؤں میں ہی ان کے ناظرین ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ان کھیلوں کے منتظمین کی جانب سے بھی پوری کوشش نہیں ہوئی کہ کس طرح کھیلوں کو آگے لے جایا جائے۔ انہیں سپانسر نہیں ملے، حکومتوں نے بھی توجہ نہیں دی۔ حکومت کے پاس پیسہ تو ہے یہ دولت مشترکہ کھیلوں سے ثابت ہو گیا لیکن یہ پیسہ ان لوگوں تک نہیں پہنچا جو روایتی کھیلوں سے وابستہ ہیں‘۔

جسوندر سدھو کا ماننا ہے کہ اگر ان روایتی کھیلوں کو بچائے رکھنا ہے تو سرکاری اور کارپوریٹ مدد کے ساتھ ساتھ پرانے کھیلوں میں مارکیٹنگ کے جدید طریقے اپنانے ہوں گے۔ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں جاری کبڈی ورلڈ کپ کے بارے میں لوگوں کو اس لیے پتہ چلا کیونکہ اس کی تشہیر کافی اچھے طریقے سے کی گئی اور شاہ رخ خان جیسے ستاروں کو بلایا گیا‘۔

کبڈی تو ایک مثال ہے۔ ایسے کئی روایتی کھیل بھارت، پاکستان اور برصغیر میں موجود ہیں۔ فارمولا ون ریسنگ جیسے جدید کھیلوں سے ان روایتی کھیلوں کا کوئی مقابلہ نہیں اور دیہاتوں سے جڑے ان کھیلوں کو بس اپنے لیے تھوڑی سی جگہ چاہیے۔