دورۂ بنگلہ دیش کے لیے ٹیم کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فاسٹ بولر وہاب ریاض دورۂ بنگلہ دیش کے لئے پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہیں بناسکے ہیں۔

اعلان کردہ پندرہ رکنی ٹیم میں ان کی جگہ فاسٹ بولر محمد طلحہ کو شامل کیا گیا ہے۔

وہاب ریاض سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم میں شامل تھے لیکن کوئی ٹیسٹ کھیلے بغیر وطن واپس آگئے تھے۔

وہاب ریاض نے امارات سے واپس آنے کے بعد قائداعظم ٹرافی میں کراچی بلوز کےخلاف عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پچپن رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔

قائم مقام چیف سلیکٹر محمد الیاس نے وہاب ریاض کو ٹیم میں شامل نہ کئے جانے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ سری لنکا کےخلاف سیریز جیتنے والی ٹیم کے وننگ کامبی نیشن کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ سلیکٹرز نے ہر کھلاڑی کی کارکردگی کو دیکھنے کے بعد ٹیم منیجمنٹ سے مشاورت کے بعد ٹیم منتخب کی ہے۔

جب محمد الیاس سے پوچھا گیا کہ وہاب ریاض کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کی وجہ آئی سی سی کلیئرنس تو نہیں بنی کیونکہ اسپاٹ فکسنگ میں بھی مبینہ طور پران کا نام آتا رہا ہے جس پر ان کا جواب تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتے۔

محمد طلحہ بھی وہاب ریاض کے ساتھ نیشنل بینک کیطرف سے کھیلتے ہیں اور اس سال قائداعظم ٹرافی میں بیس وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

قائم مقام چیف سلیکٹر کا میرٹ پر ٹیم منتخب کرنے کا دعوی اس لئے غلط ثابت ہوجاتا ہے کہ محمد طلحہ بیس وکٹیں حاصل کرکے ٹیم میں آگئے لیکن قائداعظم ٹرافی میں صدف حسین کی صرف چھ میچوں میں بیالس وکٹوں کی شاندار کارکردگی سلیکشن کمیٹی کو نظرنہیں آئی۔

پاکستانی ٹیسٹ ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔مصباح الحق ( کپتان )۔ محمد حفیظ۔ توفیق عمر۔ عمران فرحت۔ یونس خان۔ اظہرعلی۔ اسد شفیق۔ شعیب ملک۔ عدنان اکمل۔ سعید اجمل۔ عبدالرحمن۔عمرگل۔ محمد طلحہ۔ اعزازچیمہ اور جنید خان۔

پاکستان کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں یہ کھلاڑی شامل ہیں۔مصباح الحق( کپتان )۔ محمدحفیظ۔ عمران فرحت۔ شاہد آفریدی۔ یونس خان۔ عمراکمل۔ شعیب ملک۔ سرفرازاحمد۔ سعیداجمل۔ عبدالرحمن۔ عمرگل۔ اعزازچیمہ۔ جنید خان۔ سہیل تنویر۔ عبدالرزاق اور اسد شفیق۔

پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش کےدورے میں ایک ٹی ٹوئنٹی تین ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچز کھیلے گی۔

واحد ٹی ٹوئنٹی انتیس نومبر کو کھیلاجائے گا۔

تین ون ڈے یکم تین اور چھ دسمبر کو ہونگے۔

پہلاٹیسٹ میچ نو سے تیرہ دسمبر تک کھیلا جائے گا۔

دوسرا ٹیسٹ سترہ سے اکیس دسمبر تک ہوگا۔