سلمان اور عامر کی اپیلیں مسترد، سزا برقرار

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عامر اور سلمان بٹ کی اپیل پر سماعت شروع ہوگي

لندن کی ایپلٹ کورٹ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد عامر کی جانب سے سپاٹ فکسنگ معاملے میں قید کی سزا کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی سزا برقرار رکھی ہے۔

سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے ستائیس سالہ سلمان بٹ کو ڈھائی سال، اٹھائیس سالہ محمد آصف کو ایک سال اور انیس برس کے محمد عامر کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے ایجنٹ مظہر مجید کو بھی دو سال آٹھ ماہ قید کا حکم دیا تھا اور قید کی سزا پانے والے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں اور ایجنٹ مظہر مجید کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے محمد عامر نے اپنی ضمانت کے لیے عرضی دی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا لیکن انہیں اپنی سزا کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی اجازت دی تھی۔

سبھی کھلاڑیوں نے اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سلمان بٹ اور محمد عامر کی اپیل کی درخواستوں پر بدھ کو سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران لارڈ جسٹس کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے اپنی ٹیم، اپنے ملک اور کرکٹ کے کھیل کو دھوکہ دیا۔

اس مقدمے میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے کہنے پر چھبیس اور ستائیس اگست سنہ دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروائیں تھیں۔

اس کے لیے ایجنٹ مظہر مجید نے محمد آصف کو پینسٹھ ہزار، سلمان بٹ کو ایک لاکھ اور محمد عامر کو ڈھائی ہزار برطانوی پونڈ کی رقم ادا کی تھی۔

عدالت نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور بالر محمد آصف کو دھوکہ دہی اور بدعنوانی کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

مقدمے کے دو دیگر ملزمان محمد عامر اور ایجنٹ مظہر مجید نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ محمد عامر نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ صرف ایک میچ میں فکسنگ کے مرتکب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں