اعصام، بوپنا کی راہیں جدا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیکن ایسا بھی نہیں رہا کہ یہ دونوں محض سفارتی آداب بجالاتے رہے ہوں۔ یہ جوڑی عصر حاضر کی ہر بڑی جوڑی پر گرجی بھی اور برسی بھی

ٹینس سٹار اعصام الحق اور روہن بوپنا کی راہیں بالآخر جدا ہوگئیں ہیں۔

ٹینس کے انفرادی کھیل میں جہاں ہمیشہ نیٹ کے دونوں طرف موجود کھلاڑی سخت جاں حریف کے طور پر پہچانے جاتے رہے ہوں، بیون بورگ کا نام جان میکنرو اور جمی کونرز کے مدمقابل کے طور پر شہ سرخیوں میں رہا ہو اور اس کے بعد بھی سٹیفن ایڈبرگ بورس بیکر، پیٹ سمپراس آندرے اگاسی اور راجر فیڈرر رافیل نڈال روایتی حریف کے طور پر شائقین کی توجہ کا مرکز بنے رہے ہوں۔

ایسے میں اعصام الحق اور روہن بوپنا کی جوڑی کو جو عالمگیر شہرت ملی وہ کئی اعتبار سے حیران کن اور منفرد ہے۔

حیران کن اس لیے کہ یہ دونوں کھلاڑی دو ایسے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جو کسی بھی کھیل میں ایک لکیر کھنچ کر مقابلہ کر کےایک دوسرے کو زیر کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں لیکن ان دونوں نے ’ملا پ‘ کی انوکھی مثال قائم کی اور جیت کے سکور کے ساتھ ساتھ امن کے پیغام کو بھی آگے بڑھاتے رہے۔

اس جوڑی نے مارک ووڈ فرڈ، ٹاڈ ووڈ برج اور برائن برادرز کی طرح گیارہ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس نہیں جیتے بلکہ ایک بھی گرینڈ سلیم ٹائٹل نہیں جیتا لیکن اس کے باوجود جب بھی یہ کورٹ میں اتری اسے دوسروں سےمختلف دیکھا گیا۔

جو بات دنیا کو حیران کرنے کا سبب بنی رہی وہی ان کے منفرد ہونے کی بڑی وجہ بھی رہی۔

لیکن ایسا بھی نہیں رہا کہ یہ دونوں محض سفارتی آداب بجالاتے رہے ہوں۔ یہ جوڑی عصر حاضر کی ہر بڑی جوڑی پر گرجی بھی اور برسی بھی۔

اب جب یہ جوڑی ٹوٹ گئی ہے تو کئی سوالات ذہنوں میں آ رہے ہیں۔

اے ٹی پی ٹورفائنلز میں شکست کی وجہ یہ تو نہیں کہ دونوں کو پتہ تھا کہ وہ الگ ہونے والے ہیں؟

دونوں اب ایک دوسرے کے بغیر کس طرح کھیلیں گے؟ اور کیا یہ جدائی وقتی ہے یا دونوں نے اپنے نئے پارٹنرز مستقل طور پر حاصل کر لیے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعصام الحق اور روہن بوپنا کی جوڑی کو جو عالمگیر شہرت ملی وہ کئی اعتبار سے حیران کن اور منفرد ہے

میں نے ان سوالات کے جوابات جاننے کے لیے اعصام الحق سے رابطہ کیا تو مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ میں ایک ایسے کھلاڑی سے بات کرنے جا رہا ہوں جو اپنی زندگی کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی خوشی تین مسلسل شکستوں کے نتیجے میں کھو چکا ہے اور سب سے بڑی خوشی جو اسے روہن بوپنا کی شکل میں گزشتہ کئی برسوں سے میسر تھی وہ بھی اب اس کے پاس نہیں رہی لیکن اعصام نے اپنے مضبوط اعصاب کو گفتگو کے دوران موثر طور پر استعمال کیا۔

’مجھے اے ٹی پی ٹور فائنلز میں شکست کا بہت افسوس ہے خاص کر پہلے دو میچوں میں ہم اچھا کھیل کر ہارے۔ مجھے اس ٹورنامنٹ سے پہلے ہی پتہ تھا کہ روہن مجھ سے الگ ہو رہے ہیں لیکن ہم نے اس بارے میں میڈیا میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ جوڑی ٹوٹنا ہماری شکست کی وجہ بنی۔ مجھے معلوم ہے کہ روہن کو اولمپکس میں ایک پارٹنر کی تلاش تھی جس کی وجہ سے انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ میں ان کے اس فیصلے کا احترام کرتا ہوں اور ان کے لیے نیک تمنائیں رکھتا ہوں۔ ہم دونوں نے بہت اچھا وقت گزارا اور ان کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ بہت ہی اچھا رہا۔‘

کیا اولمپکس کے بعد روہن بوپنا آپ کے ساتھ دوبارہ کھیلیں گے؟

اعصام الحق نے اس سوال پر گیند روہن کے کورٹ میں ڈال دی’یہ روہن پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں لیکن مجھے پورا سال اپنے نئے پارٹنر جین جولین راجر کے ساتھ کھیلنا ہے ۔میری ان سے دس سال سے بھی زیادہ پرانی دوستی ہے ۔وہ اچھے کھلاڑی بھی ہیں اور ہم چاہیں گے کہ اگلے سال اپنا پہلا گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتیں اور ماسٹرز کے لیے بھی کوالیفائی کرسکیں۔ میں اگلے سال مئی تک عالمی رینکنگ کے دس بہترین کھلاڑیوں میں رہ کر اولمپکس میں براہ راست کھیلنا چاہتا ہوں۔‘

آپ کی جوڑی نے پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کے لیے موثر پیغام دیا تو اب اس کا کیا ہوگا؟

اعصام الحق اس سوال پر دوستی اور پارٹنرشپ کا فرق بتاتے ہیں’ہماری دوستی میں کوئی فرق نہیں آئے گا ہم بے شک اب ساتھ نہیں کھیلیں گے لیکن امن کے سفیر ہونے کے ناتے ہم امن و آشتی کا پیغام اسی طرح عام کرتے رہیں گے۔‘

اعصام الحق کو ٹینس کورٹ میں نئے پارٹنر کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی لائف پارٹنر مل گیا ہے اور وہ سترہ دسمبر کو شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہیں۔

اسی بارے میں