ہاکی فیڈریشنز کے ٹکراؤ سے کھیل کا نقصان

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اختلاف کے سبب بھارتی کھلاڑی تذبذب میں پھنس گئے ہیں

بھارت میں’انڈین ہاکی فیڈریشن‘ کے تحت ورلڈ سیریز ہاکی ٹورنامنٹ کی تیاریاں زوروں پر ہیں لیکن ساتھ ہی ملک کی دوسری فیڈریشن ’ہاکی انڈیا‘ سے اس کا ٹکراؤ بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

عالمی ہاکی سیریز کے سپانسر نیمبس کا کہنا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود یہ ورلڈ سیریز پروگرام کے مطاب‍ق منعقد کی جائےگي۔

ورلڈ ہاکی سیریز کا انعقاد انڈین ہاکی فیڈریشن کر رہی ہے لیکن اس کی حریف فیڈریشن ہاکی انڈیا اس کی مخالف ہے۔

ہاکی انڈیا کو بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن کی منظوری ملی ہوئی ہے جبکہ انڈین ہاکی فیڈریشن کو بھارتی حکومت تسلیم کرتی ہے اور دونوں فیڈریشنوں کے اس ٹکراؤ میں بھارتی ہاکی زوال کے بھنور میں غوطے کھا رہی ہے۔

ورلڈ سیریز ہاکی کے لیے آٹھ ٹیموں کو منتخب کیا جانا ہے۔ یہ سیریز 17 دسمبر سے شروع ہو رہی ہے اور مقابلے 22 جنوری تک جاری رہیں گے۔ اس ٹورنامنٹ میں لیگ میچز اور پلے آف کی شکل میں کھیلے جانے والے میچ دو مرحلوں میں ہونگے۔

اس ٹورنامنٹ کی سپانسر کمپنی نمبس کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کارل ڈی کوسٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس میں بھارت کے علاوہ پندرہ ملکوں کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ ہم نے پچاس سے زیادہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو سائن کیا ہے جبکہ کل دو سو بیس سے زیادہ کھلاڑی اس سیریز میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں‘۔

ان مقابلوں میں بھارت کے علاوہ جن ممالک کے کھلاڑی شریک ہیں ان میں پاکستان، نیوزی لینڈ، ہالینڈ، جرمنی، امریکہ، ارجنٹینا، جنوبی کوریا اور ملائیشیا بھی شامل ہیں۔

’ہاکی انڈیا‘ نے ان مقابلوں کے انعقاد کی راہ میں مشکلات پیدا کرنی شروع کی ہیں۔ اس نے اولمپک کوالیفائر کا وہ تربیتی کیمپ گیارہ دسمبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جو پہلے چوبیس جنوری سے شروع ہونا تھا۔ اس اعلان کے بعد بھارت کے چھ ٹاپ کھلاڑیوں نے جمعرات کو ہاکی سیریز کے سپانسر کو ایک خط لکھ کر ٹورنامنٹ میں شامل ہونے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

کارل ڈی کوسٹا نے کہا کہ ’ہم نے کوالیفائنگ میچز کی تیاری کا پروگرام دیکھ کرہی ورلڈ سیریز کی تاریخیں طے کی تھیں لیکن اگر وہ ٹریننگ کیمپ کی تاریخ پہلے کر دیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں‘۔

بین الاقوامی ہاکی فیدریشن بھی ہاکی انڈیا کا ساتھ دے رہی ہے اور کئی دوسرے ملکوں کی فیڈریشنز پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا رہے کہ وہ ورلڈ سیریڑ ہاکی میں حصہ نہ لیں۔

بھارتی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور فارورڈ اسلم شیر خان کا کہنا ہے کہ بھارت کی دونوں فیڈریشنوں میں ٹکراؤ کا بنیادی سبب پیسہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہاکی میں بھارت میں اتنا پیسہ آ گیا ہے کہ ہر کو ئی اسے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ عالمی کپ کے لیے بھی بیس پچیس کروڑ روپے کی سپانسر شپ ملی تھی اسی لیے انٹر نیشنل ہاکی فیڈریشن بھی بھارت میں اتنی دلچسپی لے رہی ہے‘۔

اسلم شیر خاں کہتے ہیں کہ دونوں فیڈریشنوں کے ٹکراؤ سے بھارتی ہاکی کو بہت نقصان پہنچا ہے لیکن اگر ورلڈ سیریز ہاکی کامیاب ہوگئی تو اس سے ہاکی کے کھیل اور کھلاڑیون کو ایسا موقع مل سکتا ہے جو انہیں پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا۔

اسی بارے میں