’جارحانہ اور دفاعی انداز میں توازن ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز میں اپنی تمام تر توجہ بہترین کھیل پیش کرنے پر مرکوز رکھے گی۔

ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم ماضی میں انگلینڈ کے دورے میں ہونے والے سپاٹ فکسنگ کے واقعات پر کوئی دھیان نہیں دے گی۔

مصباح الحق کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر ہے کہ وہ دفاعی کپتان ہیں اس ضمن میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال کو مد نظر رکھ کر کپتانی کرتے ہیں اور ان کے خیال میں جارحانہ انداز اور دفاعی انداز میں توازن سے اچھی کپتانی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا اس کے بعد سے اب تک ہماری ٹیم نے ہر سیریز میں صرف اچھی کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے اور انگلینڈ کے خلاف بھی ان کی یہی کوشش ہو گی۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا قذافی سٹیڈیم لاہور میں لگایا گیا کیمپ سنیچر کو ختم ہوا۔

اس کیمپ کے خاتمے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ اس کیمپ میں انگلینڈ کی ٹیم کی قوت کو مد نظر رکھتے ہوئے کھیل کے تمام شعبوں میں خصوصی تربیت کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیم کے کھلاڑی ماضی قریب میں دکھائی گئی عمدہ کارکردگی کا تسلسل قائم رکھیں گے کیونکہ انہیں احساس ہے کہ کامیابی کے بعد آرام سے نہیں بیٹھنا بلکہ مذید محنت کر کے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔

مصباح الحق کے بقول کپتانی کے علاوہ ان کی کوشش ہو گی کہ انگلینڈ کے خلاف ہماری ٹیم زیادہ رنز بنائے جس کے بعد مخالف ٹیم پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

مصباح الحق انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی کرنے سے گریزاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ پیش گوئی تو کرنی ہی نہیں چاہیے۔ ان کی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ وہ اچھی کرکٹ کھیلیں اور کوئی کسر نہ چھوڑیں نتائج کیا ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان کی ٹیم کے کوچ محسن خان کا کہنا ہے اس کیمپ میں فیلڈنگ پر کافی زور دیا ہے کیونکہ یہ ہمارا کمزور شعبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ ایک متوازن ٹیم ہے اور اس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی ٹیم کو کھیل کے ہر شعبے میں محنت کرنا ہو گی اور انہوں نے بطور کوچ ٹیم کو یہی بتانے کی کوشش کی ہے۔

محسن حسن خان نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے دورہ انگلینڈ میں سپاٹ فکسنگ کا جو بھی واقعہ ہوا اس کو انگلینڈ کی ٹیم نفسیاتی حربے کے طور پر اگر استعمال بھی کرے گی تو پاکستان کی ٹیم کے کھلاڑی اس پر کوئی توجہ نہیں دیں گے ان کی کوشش ہو گی کہ وہ تمام پرانی باتوں کو بھلا کر صرف اور صرف میدان میں اچھا کھیل پیش کریں۔

پاکستان کی ٹیم نو جنوری کو متحدہ عرب امارات روانہ ہو گی اور انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ سترہ جنوری کو دبئی میں ہو گا۔

اسی بارے میں