پاکستان انگلینڈ سیریز اور تنازعات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کرکٹ سیریز کا آغاز سترہ جنوری سے ہو رہا ہے لیکن ماضی میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ ان دونوں ممالک کے مابین سیریز کسی تنازعے کے بغیر کھیلی گئی ہو۔

سنہ انیس سو چّون میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا پہلا دورۂ انگلینڈ کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر پاکستانی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے لیکن اس کے بعد تقریباً ہر سیریز میں میدان اور میدان سے باہر کی گرما گرمی شہ سرخیوں میں جگہ بناتی رہی۔

انیس سو چھپن میں ڈونلڈ کار کی قیادت میں ایم سی سی کی ٹیم پاکستان آئی ۔ مہمان ٹیم امپائرنگ سے خوش نہیں تھی اور اس نے اس کا غصہ امپائر ادریس بیگ پر اتارا۔ چند انگلش کرکٹرز نے پشاور کے ہوٹل میں ادریس بیگ کو زبردستی پکڑ کر ان پر بالٹی انڈیل دی۔

انگلش کرکٹرز کے اس نامناسب سلوک پر حکومت پاکستان حرکت میں آگئی اور گورنر جنرل اسکندرمرزا نےایم سی سی کو سخت الفاظ میں خط لکھ کر اس واقعے پر معافی کا مطالبہ کیا جس پر ایم سی سی کو معافی مانگنی پڑی۔

سنہ انیس سو باسٹھ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم جاوید برکی کی قیادت میں انگلینڈ گئی۔اس دورے سے قبل فضل محممود کو’بوڑھا‘ قراردے کر ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا۔ فضل محمود نے اپنی کتاب میں اس کا ذمہ دار اعلی شخصیات کی مداخلت کو قرار دیا کہ ایک فون کال پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے سربراہ نے انہیں ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

انگلینڈ کے دورے میں ٹیم کے سینئر کرکٹرز نے اثرورسوخ والے نوجوان لیکن ناتجربہ کپتان جاوید برکی پر مبینہ نامناسب رویے کا الزام عائد کیا۔ اسی دورے میں حسیب احسن کے مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آنے اور جاوید اختر کو کھلائے جانے کو بھی کپتان کی پسند ناپسند سے تعبیر کیا گیا۔

پاکستانی ٹیم کی دورے میں جو درگت بنی اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مجبور کردیا کہ وہ فضل محمود کو انگلینڈ روانہ کرے لیکن فضل محمود آخری ٹیسٹ ہی کھیل پائے اور اوول کے ہیرو کا کیرئر اسی اوول میں اختتام کو پہنچ گیا۔

سنہ انیس سو اڑسٹھ میں انگلینڈ کی ٹیم پاکستان آئی تو ملک میں ایوب خان کے خلاف احتجاج زوروں پر تھا اور کراچی ٹیسٹ اسی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا جبکہ سنہ انیس سو چوہتر میں پاکستانی ٹیم کے دورۂ انگلینڈ میں منیجر عمرقریشی نے میزبانوں پر لارڈز ٹیسٹ کی وکٹ میں گڑبڑ کا الزام عائد کیا جس پر لیفٹ آرم اسپنر انڈرووڈ نے آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

انیس سو ستتر میں کیری پیکر سیریز کی سحر انگیزی نے اس وقت کے کئی بڑے کھلاڑیوں کو اپنی جانب مائل کرلیا تو ان ملکوں کو نئے کھلاڑی میدان میں اتارنے پڑے۔

اسی دوران انگلینڈ کی ٹیم مائیک بریرلی کی قیادت میں پاکستان آئی تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیری پیکر سیریز کھیلنے والے تین کھلاڑیوں ظہیر عباس، عمران خان اور مشتاق احمد کو پاکستان بلا کر کراچی کے تیسرے ٹیسٹ میں کھلانا چاہا لیکن مبینہ طور پر انگلینڈ کی ٹیم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی خواہش پوری نہیں ہونے دی اور دھمکی دی کہ اگر پیکر سیریز کے کرکٹرز ان کے سامنے آئے تو وہ کراچی ٹیسٹ کا بائیکاٹ کردیں گے۔

سنہ تراسّی میں پاکستان کے دورے سے واپس جانے والے ای این بوتھم نے یہ بیان دے ڈالا کہ پاکستان ایسی جگہ ہے جہاں صرف ’ساس‘ ہی بھیجی جا سکتی ہیں۔

سنہ انیس سو بیاسی اور پھر سنہ ستاسی میں عمران خان کی قیادت میں انگلینڈ جانے والی پاکستانی ٹیم کو انگش امپائرز کے بعض فیصلوں نے ناراض کر دیا۔ انیس سو ستاسی کے دورے کے دوران ہی پاکستانی ٹیم کے مینیجر حسیب احسن نے انگلش امپائرز کے خلاف باضابطہ احتجاج کیا جسے انگینڈ کرکٹ بورڈ نے مسترد کر دیا۔

اسی سال پاکستان میں کھیلی گئی سیریز مائیک گیٹنگ اور شکور رانا کے درمیان پیش آنے والے تلخ واقعے کے سبب یاد رکھی جاتی ہے۔

شکور رانا نے مائیک گیٹنگ کی اس حرکت پر اعتراض کیا تھا کہ وہ بولنگ کے دوران اپنے فیلڈر کی پوزیشن تبدیل کرتے ہیں۔ دونوں میں تلخ کلامی ہوئی اور شکور رانا نے گیٹنگ سے معافی کا مطالبہ کیا۔ گیٹنگ کے انکار پر انہوں نے میچ جاری رکھنے سے انکار کر دیا جس پر ایک دن کا کھیل ہی نہ ہو سکا اور بعد میں گیٹنگ کو معافی مانگنی پڑی۔

پانچ برس بعد جب انیس سو بانوے میں پاکستانی ٹیم انگلینڈ گئی تو وسیم اکرم اور وقار یونس کا جادو سرچڑھ کر بولا لیکن انگلش پریس نے دونوں بولرز کی شاندار بولنگ کے اثرات کو بال ٹمپرنگ کے الزامات سے زائل کرنے کی کوشش کی۔

یہی الزامات انیس سو چھیانوے میں بھی سامنے آئے جس کا نقطہ عروج ایلن لیمب اور ای این بوتھم کے خلاف عمران خان کا عدالت میں جانا تھا اور وہ یہ کیس جیت گئے۔

سنہ دو ہزار میں دونوں ٹیموں کے درمیان کراچی میں کھیلے گئے ٹیسٹ کا چرچا کافی عرصے تک رہا جب تقریباً اندھیرے میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی جبکہ سنہ دو ہزار چھ میں پاکستانی ٹیم کا دورۂ انگلینڈ اوول ٹیسٹ کی وجہ سے یاد رہے گا۔

اس میچ میں جب آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کیا تو انضمام الحق کی قیادت میں ٹیم ڈریسنگ روم میں جاکر بیٹھ گئی اور ہیئر نے کچھ دیر انتظار کر کے میچ میں انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔

سنہ دو ہزار دس میں پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے دوران وہ تنازعہ سامنے آیا جسے نہ صرف پاکستان انگلینڈ سیریز بلکہ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا تنازعہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ معاملہ تھا سپاٹ فکسنگ کا اور برطانوی اخبار کے الزامات سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ تین پاکستانی کھلاڑیوں محمد آصف، محمد عامراور سلمان بٹ کے جیل جانے پر منتج ہوا۔

اسی بارے میں