تائی کانڈو افغانستان میں امن کی امید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

روح اللہ نکپئی کئی اعتبار سے اولمپک کے عالمی کھیلوں کے خواب دیکھنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہیں۔ بیجنگ میں سنہ دو ہزار آٹھ میں منعقد ہونے والے اولمپکس میں انہوں نے تائی کانڈو میں کانسی کا تمغہ حاصل کرکے افغانستان کے پہلے اولمپکس ہیرو بن گئے۔

سویت فوج کے انخلاء کے بعد جب افغانستان میں اقتدار کی شدید کشمکش شروع ہوئی تو نکپئی کا خاندان افغانستان کے ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھا جو جان بچانے کی غرض ایران یا پاکستان کا رخ کر رہے تھے۔

اس زمانے میں پچیس لاکھ افغان مہاجرین ایران اور تیس لاکھ سے زائد پاکستان میں پناہ لینے میں مجبور تھے۔

نکپئی کے خاندان نے ایران میں پناہ لی اور یہیں نکپئی نے تائی کانڈو کے کھیل میں دلچسپی لینا شروع کی اور اس مہاجر کیمپ کی تائی کانڈو کی ٹیم میں شامل ہو گئے۔

کابل میں طالبان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک کے سیاہ ترین دور کا آغاز ہوا۔ تمام کھیلوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

کابل کا غازی اسٹیڈیم سنگسار اور پھانیسوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

سنہ دو ہزار چار میں جب نکپائی کابل پہنچا اس وقت طالبان اقتدار سے بے دخل ہو چکے تھے۔ ملک میں امن تو بحال نہیں ہو سکا لیکن کابل کے سٹیڈیم میں کھیلوں کی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ اس سٹیڈیم میں تائی کانڈو فاونڈیشن نے کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے تائی کانڈو کے کھلاڑیوں کو مدعو کیا اور نکپئی ان میں شامل ہونے والا پہلے کھلاڑیوں میں سے تھے۔

بیجنگ اولمپکس میں ان کا تیسری پوزیشن افغانستان میں کھیل کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ کوریا کے کوچ سن ہیک کی ان پر تین سال پہلے نظر پڑی تھی اور انھوں نے یہ پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ کھلاڑی سونے کا تمغہ جیتے گا۔ نکپئی بیجنگ اولمپکس میں حصہ لینے جب پہنچے تو ان کی عمر اکیس سال تھی اور ان کا کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ ایک ایسے ملک کی نمائندگی کر رہے تھے جس نے کبھی اولمپکس مقابلوں میں کوئی تمغہ حاصل نہیں کیا تھا۔ وہ ایک ہیرو کی طرح ملک لوٹے۔ کابل کے ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے ایک جمغفیر موجود تھا۔ انھیں ایک جلوس کی شکل میں غازی اسٹیڈیم لایا گیا۔

نکپئی نے کہا کہ ان کے تمغے جیتنے کی وجہ سے مختلف نسل کے لوگ ایک جگہ جمع ہوئے۔ تائی کانڈو کا کھیل اب افغانستان میں امن کا نشان بن گیا ہے۔

نکپئی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی تباہی اور خون خرابہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔

نکپئی نے کہا کہ تائی کانڈو نے افغان عوام کو ایک امید دی ہے۔

اب ان کی نظریں سنہ دو ہزار بارہ کے لندن اولمپکس پر مرکوز ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ اس میں وہ سونے کا تمغہ جیتیں۔