دبئی ٹیسٹ: مصباح اور سٹراس کا بڑا امتحان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر پاکستانی بیٹسمینوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو مہمان بولرز کا کام آسان ہوجائے گا

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ منگل سے دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے۔

دونوں ٹیموں کے کپتان مصباح الحق اور اینڈریو اسٹراس یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ دونوں کے لیے یہ کتنا بڑا امتحان ہے۔

مصباح الحق کے لیے انگلینڈ کی ٹیم پہلی سخت حریف کے طور پر سامنے ہے۔ اس سے قبل انہوں نے جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سے سیریز برابر کھیلنے کے علاوہ نیوزی لینڈ زمبابوے سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی نمبر ایک ٹیم بننے کے بعد پہلی بار ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہے لیکن کپتان سٹراس مسلسل چھ ٹیسٹ سیریز جیتنے کے باوجود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انگلینڈ کی ٹیم برصغیر میں جیت کے مزے نہیں لوٹ سکی ہے اور وہ یہ جمود توڑنا چاہتے ہیں۔

سال دو ہزار میں پاکستان اور سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کے بعد سے انگلینڈ کی ٹیم برصغیر کی آٹھ سیریز میں سے ایک برابر کرکے صرف دو میں بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیم کو ہرا سکی ہے اور بقیہ پانچ میں اسے پاکستان، بھارت اور سری لنکا نے ناکام وطن واپسی پر مجبور کیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم متحدہ عرب امارات میں کھیل رہی ہے۔

سپن بولنگ اس سیریز میں پاکستانی حکمت عملی کا اہم نکتہ ہے۔ کپتان مصباح الحق آف اسپنر سعید اجمل محمد حفیظ اور لیفٹ آرم سپنر عبدالرحمنٰ کے تکونی اٹیک کے ذریعے انگلش بیٹسمینوں کو قابوکرنے کی کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم متحدہ عرب امارات میں کھیل رہی ہے

تاہم یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ شین وارن جیسے ورلڈ کلاس سپنر کے بعد انگلش بیٹسمینوں پر سپنرز کوئی غیرمعمولی تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور جن آخری نو ٹیسٹ سیریز میں انگلش ٹیم ناقابل شکست رہی ہے ان میں انگلینڈ کی تین سو پچانوے وکٹوں میں سے صرف ننانوے وکٹیں سپنرز کے حصے میں آئی ہیں۔

انگلش بیٹنگ سٹرؤس، کک، پیٹرسن، بیل اور ٹراٹ جیسے مضبوط ستونوں پر کھڑی ہے جبکہ بولنگ میں اینڈرسن، براڈ اور سوآن اس کی امیدوں کا مرکز ہیں۔

انگلش پیس اٹیک کے لیے ان کنڈیشنز میں بولنگ اور انگلش کنڈیشنز جیسی کامیابیاں سمیٹنا آسان نہ ہوگا لیکن اگر پاکستانی بیٹسمینوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو مہمان بولرز کا کام آسان ہوجائے گا۔

دبئی میں پاکستان نے دو ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں۔جنوبی افریقہ کے خلاف میچ ڈرا ہوا تھا جبکہ گزشتہ اکتوبر میں پاکستان نے سری لنکا کو نو وکٹوں سے شکست دی تھی۔

اسی بارے میں