پاکستان ہاکی کے ستارے جو عالمی اُفق پر چمکے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

چودہ سالہ ابوبکر جہاں بھی جاتے ہیں وہ اپنی ہاکی سے ڈبرلنگ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک اولمپیئن ندیم ہماری گلی میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’میں نے ان کو دیکھ کر کھیلنا شروع کیا اور اب میں صبح اٹھتے ہی ہاکی کے بارے سوچتا ہوں اور رات کو بستر پر جاتے جاتے ہاکی میرے ذہن پر سوار رہتی ہے۔‘

مرکزی پنجاب میں ایک چھوٹا سا قصبہ گوجرا واقع ہے۔ ماضی قریب میں اس قصبے کا نام اخباروں کی سرخیوں میں رہا لیکن معاشرے میں پائی جانے والی مذہبی منافرت کی وجہ سے۔

گوجرا کا سب سے بڑا سیکنڈری سکول بری حالت میں ہے اور یہاں طالب علموں کو اکثر کھلے آسمان تلے میدان میں بیٹھنا پڑتا ہے کیونکہ کلاسوں میں جگہ کم ہوتی ہے۔

لیکن ابوبکر کی طرح کوئی بچہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کا خواہشمند ہے تو پھر پاکستان میں اس سے اچھا کوئی سکول اور قصبہ نہیں ہو سکتا اس لحاظ سے وہ بالکل صحیح سکول میں ہے۔

پاکستان میں اولمپکس کا سب سے اہم کھیل ہاکی ہے اور ایم سی ہائی سکول کا اس سلسلے میں سنہری ریکارڈ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گزشتہ چالیس برس میں ایم سی ہائی سکول نے ہاکی کے ستاون بین الاقوامی کھلاڑی پیدا کیے ہیں جس میں طاہر زمان، منور الحسن، رشید الحسن اور شہباز جونیئر شامل ہیں۔

ان کھلاڑیوں نے عالمی کپ، چیمپیئن ٹرافیز اور اولمپک گولڈ میڈل جیتے ہیں۔

لندن اولمپک میں شرکت کرنے والی ہاکی ٹیم میں اس سکول کے کم از کم چار فارغ التحصیل طالب علم شامل ہوں گے۔

پاکستان ہاکی ٹیم کے دفاعی کھلاڑی محمد عرفان کے مطابق وہ ایم سی ہائی سکول جانے سے پہلے کچھ بھی نہیں تھے۔

اب ہم اپنے ملک کے لیے ہاکی کھیل رہے ہیں یہ سب کچھ سکول میں میسر ہونے والی تربیت کی بدولت ہوا ہے۔ بحثیت طالب علموں کے ہمیں یہ یقین تھا کہ ہاکی کی حد تک ہم اس سکول میں رہتے ہوئے وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جس کی تمنا کی جا سکتی ہے۔

ایم سی ہائی سکول کھیلوں کی تربیت گاہ یا اکیڈمی نہیں ہے بلکہ ایک عام سا سرکاری سکول یا درسگاہ ہے۔ تو پھر اس میں وہ کیا خاص بات ہے جو اسے دوسرے سکولوں سے ممتاز کرتی ہے۔

سکول کے پچھواڑے ایک میدان میں آدھی چھٹی کے دوران تمام لڑکے آپ کو کرکٹ کی بجائے ہاکی کھیلتے ہوئے ملیں گے۔

اس کی ایک بڑی وجہ اسلم رودھا ہے جو اب ستر برس کے ہو چکے ہیں۔ وہ ایم سی ہائی سکول میں سنہ انیس سو پچاس اور سنہ انیس سو ساٹھ کے درمیان اس وقت طالب علم تھے جب گوجرا ایک غیر معروف چھوٹا سا زرعی قصبہ تھا۔

اسلم رودھا نے کہا کہ وہ ایک اچھے اتھلیٹ تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ ہاکی بھی کھیل سکتے ہیں۔اسوقت ہمارے سکول کی ٹیم اچھی نہیں تھی اور ہم ہارتے رہتے تھے لیکن پھر میں نے اور کچھ اور لڑکوں نے صورت حال بدل دی اور ٹیم بہتر ہو گئی۔

جلد ہی اسلم رودھا پاکستان کی ہاکی ٹیم میں منتخب ہو گئے۔

ابھی وہ کھیل ہی رہے تھے کہ انھیں خیال آیا کہ گوجرا میں کھیلوں کا انقلاب لانا چاہیے۔

گوجرا میں کوئی صنعت نہیں تھی اور اس کی کوئی چیز مشہور نہیں تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ یہاں سے بین الاقوامی معیار کے ہاکی کھلاڑی پیدا ہو سکتے ہیں۔ میں نے لڑکوں کی تربیت شروع کی اور وہ بین الاقوامی سطح کا کھیل پیش کرنے لگے اور پھر یہ دن آ گیا۔

سکول میں ہیڈ ماسٹر کے دفتر کے باہر اسلم رودھا کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری بورڈ لگائے گئے ہیں۔ان تختوں پر تمام سابق کھلاڑیوں کے نام درج ہیں۔ ابھی وہاں پر تین تختے لگے ہوئے ہیں اور جلد ہی وہاں چوتھے کی ضرورت ہو گی۔

ایک طالب علم محمد نقاش کا کہنا ہے کہ جب ہم اپنی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں تو خیال آتا کہ وہ تمام سابق کھلاڑی جنہوں نے اتنی شہرت پائی یہیں بیٹھتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انھیں ہاکی کے میدان میں مسلسل محنت کرکے عزت ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ میرا خواب ہے کہ میں اپنے والدین اور اساتذہ کا سر فخر سے بلند کروں اور اپنے سکول اور اپنے ملک کا نام ہاکی کے میدان میں روشن کروں۔‘

„میں تمام عمر ہاکی کھیلنا چاہتا ہوں اور اپنے سکول کی مدد سے ایک دن میں بھی قومی ہاکی ٹیم میں منتخب ہو جاؤں گا۔‘

سولہ سالہ مبشرعلی نے بتایا کہ کسی طرح سکول ہاکی کی مدد سے غریب لڑکوں کو غربت سے نکال کر عالمی ہاکی تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے۔ اسلم رودھا نے بتایا کہ نوے فیصد بچے اس سکول میں غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کو پوری غزا بھی نصیب نہیں ہوتی۔

لیکن کچھ لوگوں کی مدد سے ہم اس سلسلے کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اگر کوئی لڑکا سکول سے دور رہتا ہے تو ہم اس کو سائیکل خرید دیتے ہیں۔ ہم غریب لڑکوں کو دودھ اور خوراک فراہم کرتے ہیں اور انھیں ہاکی اور گیندیں بھی خرید کر دیتے ہیں۔‘

لوگ ہمیں جانگیے ، ٹی شرٹس اور جوتے بھی خرید کر دیتے ہیں جو ہم لڑکوں میں تقسیم کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ لڑکے مختلف رنگوں کی وردیاں پہنے ہوئے ہیں۔

ان میں ہی سے کچھ لڑکے عالمی سطح پر یورپ اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کا مقابلہ کرنے جائیں گے اور ان میں جتنے کی لگن کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔