’شرٹ اتارنے کی اجازت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابوظہبی کی سوسائٹی قدامت پسند ہے، انگلش تماشائی اپنی شرٹیں نہ اتاریں: ایمریٹس کرکٹ بورڈ

ابوظہبی کے کرکٹ حکام نے انگلش تماشائیوں کو پابند کر دیا ہے کہ انہیں سٹیڈیم میں اپنے لباس کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا اور انہیں اپنی قمیضیں اتار کر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ شیخ زید سٹیڈیم میں بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔

انگلینڈ کے سینکڑوں کی تعداد میں تماشائی یہ سیریز دیکھنے کے لئے متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔

بارمی آرمی کے نام سے پہچانے جانے والے یہ انگریز تماشائی انگلینڈ اور دوسرے مغربی ملکوں میں میچوں کے دوران بیئر وغیرہ سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ دھوپ کا مزا لینے کے لیے اپنی شرٹس بھی اتار دیا کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے سٹیڈیمز میں شراب ممنوع ہے۔

ایمریٹس کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر دلاور مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تماشائیوں کو اس بات کی کھلی اجازت ہے کہ وہ آئیں اور کرکٹ سے بھرپور لطف اٹھائیں لیکن اپنی حدود میں رہ کر۔

دلاور مانی سے پوچھا گیا کہ یہ حدود کیا ہیں ؟ تو انہوں نے کہاکہ ابوظہبی لباس کے معاملے میں دبئی کے مقابلے میں قدرے مختلف ہے لہٰذا وہ نہیں چاہیں گے کہ انگلش تماشائی سٹیڈیم میں اپنی شرٹس اتار کر بیٹھیں کیونکہ ابوظہبی کی سوسائٹی قدامت پسند ہے۔

دلاور مانی نے کہا کہ سٹیڈیم کے باہر ایک پیغام لگا دیا گیا ہے کہ ڈریس کوڈ بہت ہی آسان ہے بس آپ اپنے کپڑے پہنے رکھیں۔

دلاور مانی نے کہا کہ اس پابندی کا مقصد تماشائیوں کو کرکٹ سے لطف اٹھانے سے روکنا ہرگز نہیں ہے ۔ ان تماشائیوں کے ساتھ بینڈ باجے بھی آئے ہوئے ہیں جبکہ پاکستانی شائقین بھی ڈھول تاشوں کے ساتھ آتے ہیں ان سب کو میوزیکل آلات ساتھ لانے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں ضابطۂ اخلاق صرف کرکٹرز کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق شائقین کے طرز عمل پر بھی ہوتا ہے۔

اسی بارے میں