بڑی پارٹنرشپ ضروری ہے:اظہرعلی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک ایک رن کے لئے لڑنا پڑ رہا ہے کیونکہ تیسرے دن کھیل کے آغاز سے وکٹ سپنرز کو مدد کر رہی ہے: اظہر علی

ابوظہبی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کے حالات بہتر کرنے کی کوشش میں مصروف مڈل آرڈر بیٹسمین اظہر علی کہتے ہیں کہ ابھی طویل سفر طے کرنا ہے اور ایک بڑی شراکت ہی پاکستانی ٹیم کو محفوظ رکھ سکے گی۔

تیسرے دن کے اختتام پر اظہرعلی چھیالس اور اسد شفیق پنتیس پر ناٹ آؤٹ تھے اور دونوں کی شراکت پچپن تک پہنچ چکی تھی۔

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ اس مشکل صورتحال میں دونوں بیٹسمینوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ خراب گیندوں پر ہی رنز بنانے ہیں اور سیدھے سادے انداز میں بیٹنگ کرنی ہے اس صورتحال میں رنز آسانی سے نہیں بن رہے ہیں اور ایک ایک رن کے لئے لڑنا پڑ رہا ہے کیونکہ تیسرے دن کھیل کے آغاز سے وکٹ سپنرز کو مدد کررہی تھی۔

اظہرعلی نے کہا کہ وہ اور اسد شفیق بہت اچھے دوست بھی ہیں لہذا بیٹنگ کے دوران ایک دوسرے کو سمجھاتے اور ایک دیتے ہیں۔

اظہرعلی کے خیال میں ڈیڑھ سو سے زیادہ رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم اس پوزیشن میں ہوگی کہ مقابلہ کرسکے۔

انگلینڈ کی ٹیم کے آل راؤنڈر سٹورٹ براڈ کا کہنا ہے کہ انہیں اظہر علی اور اسد، شفیق کی پارٹنرشپ سے مایوسی نہیں ہوئی کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں آپ کو اس طرح کی صورتحال کے لیے ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے۔

سٹورٹ براڈ جنہوں نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست نصف سنچری سکور کرنے کے علاوہ پاکستان کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں بھی حاصل کی تھیں، کہتے ہیں کہ نئی گیند انیس اوورز کے بعد لی جائے گی جبکہ پاکستان کی برتری صرف پچپن رنز کی ہے لہذا انگلینڈ کی پوزیشن اچھی ہے۔

براڈ کے خیال میں اگر وکٹ سیدھی کھیلی تو انگلینڈ کےلیے ایک سو پچاس رنز تک کا ہدف حاصل کرنا اچھا رہے گا لیکن اگر وکٹ ٹرننگ ہوئی پھر پاکستانی ٹیم کو کم سے کم سکور پر آؤٹ کرنا ضروری ہوگا۔

براڈ سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک پاکستانی ڈرائیور کے اس جملے نے آپ پر کیا اثر ڈالا کہ پاکستانی ٹیم انہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ اس ڈرائیورکے خیالات سے کسی طور متفق نہیں تھے۔ ان کے خیال میں چوتھے دن کا پہلا گھنٹہ بہت اہم ہوگا اگر وہ پاکستانی بیٹنگ کو انیس اوورز میں بڑے سکور تک محدود رکھنے میں کامیاب رہے تو پھر نئی گیند سے وہ پوری قوت سے اٹیک کرسکیں گے۔