ابوظہبی ٹیسٹ میں انگلینڈ کا پلڑا بھاری

مونٹی پنیسر تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مونٹی پنیسر پاکستان کے کپتان مصباح الحق کو آؤٹ کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں

ابو ظہبی ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے اختتام پر پاکستان کو انگلینڈ پر پچپن رنز کی برتری حاصل ہے لیکن میچ پر انگلینڈ کی گرفت مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اظہرعلی اور اسد شفیق پاکستان کے لیے حالات بہتر کرنے میں مصروف ہیں ۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

تیسرے روز کا کھیل، تصاویر

پہلی اننگز کے 70 رنز کے خسارے کو منافع میں بدلنے سے پہلے ہی پاکستان کی چار وکٹیں گر چکی تھیں اور جب تیسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو اس کا سکور چار وکٹوں پر 125 رنز تھا۔

اس طرح اسے انگلینڈ پر 55 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے اور اس کی 6 وکٹیں باقی ہیں۔

اظہرعلی 46 اور اسد شفیق 35 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ دونوں نوجوان بیٹسمین اعتماد سے کھیلتے ہوئے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 71 رنز کا اضافہ کرچکے ہیں۔

مشکل صورتحال میں ہمیشہ دباؤ کا شکار ہونے کی پاکستانی بیٹسمینوں کی پرانی عادت کا انگلش اسپنرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

ڈھائی سال بعد اپنے ٹیسٹ کریئر کا ازسرنو آغاز کرنے والے مونٹی پنیسر نے محمد حفیظ کو بائیس کے انفرادی سکور پر پویلین کا راستہ دکھایا تو پاکستان کا سکور انتیس رنز تھا ۔

گریم سوآن نے توفیق عمر کے دفاع میں شگاف ڈالا تو ٹیم کے سکور میں کسی رن کا اضافہ نہیں ہوا تھا۔

یونس خان کو ایک رن پر بولڈ کرکے مونٹی پنیسر نے اپنے مخصوص انداز میں جشن منایا تو سکور بورڈ چھتیس رنز تین کھلاڑی کے ہندسوں کے ساتھ پاکستانی ٹیم کی مایوسی بیان کر رہا تھا۔

چائے کے وقفے کے بعد پہلے ہی اوور میں کپتان مصباح الحق بھی ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ گئے۔

بارہ رنز پر وہ مونٹی پنیسر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو دیئے گئے ۔پاکستانی کپتان نے ریویو لیا لیکن ٹی وی امپائر بلی باؤڈن کا فیصلہ ان کے خلاف رہا۔

اسد شفیق اور اظہرعلی کی شراکت نے اننگز کی شکست کے خطرے کو پرے دکھیلا اور پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف سب سے کم سکور بہتر پر آؤٹ ہونے کے ریکارڈ سے بھی بچالے گئے۔

اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 327 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ ستّر رنز کی برتری حاصل کرنے کے لئے وہ سٹورٹ براڈ کی شکرگزار تھی جنہوں نے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اٹھاون رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ یہ ان کی نویں نصف سنچری تھی۔

براڈ تنتیس رنز پر رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچے ۔ اظہرعلی کی تھرو پر رن آؤٹ کی اپیل ہوئی لیکن ٹی وی امپائر بلی باؤڈن نے شک کا فائدہ بیٹسمین کو دے دیا۔

پہلے سیشن میں پاکستان نے دو کیچز بھی گرائے۔ جنید خان نے سعید اجمل کی گیند پر ڈیپ بیک ورڈ سکوائر لیگ پر ای این بیل کا نو رنز پر آسان کیچ گرا دیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیل انتیس رنز بنا گئے اور ساتھ ہی انہوں نے گریم سوآن کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے قیمتی اکتالیس رنز کا اضافہ بھی کرڈالا۔

میٹ پرائر نے بھی تین رنز پر آؤٹ ہونے سے ایک رن پہلے عبدالرحمن کو انہی کی گیند پرکیچ کا موقع فراہم کیا لیکن وہ کیچ نہ لے سکے۔

سعید اجمل نے چالیس اوورز کی طویل بولنگ میں ایک سو آٹھ رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

19 ٹیسٹ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد97 ہوگئی ہے اور دوسری اننگز میں وہ وکٹوں کی سنچری مکمل کر کے وقاریونس اور محمد آصف کا سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں سو وکٹیں مکمل کرنے کا پاکستانی ریکارڈ برابر کرسکتے ہیں۔

محمد حفیظ نے اینڈرسن اور پنیسر کی وکٹوں پر بساط لپیٹ کر چون رنز کے عوض تین وکٹوں کی مجموعی طور پر اطمینان بخش کارکردگی دکھائی۔ عبدالرحمن نے دو جبکہ عمرگل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

اسی بارے میں