آسٹریلین اوپن، جاگووچ نے ندال کو تاریخی میچ میں ہرا دیا

نواک جاگووچ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رافیل ندال ٹینس کی تاریخ کے شاید بہترین کھلاڑی ہیں لیکن بدقسمتی سے فاتح صرف ایک ہی ہو سکتا ہے: نواک جاگووچ

عالمی نمبر ایک نواک جاگووچ نے گرینڈ سلام کی تاریخ کے سب سے طویل ترین میچ میں عالمی نمبر دو رافیل ندال کو ہرا کر آسٹریلین اوپن کا ٹائیل جیت لیا ہے۔

نواک جاگووچ اور رافیل ندال کے درمیان میچ پانچ گھنٹے اور ستاون منٹ تک جاری رہا اور یہ ٹینس کی تاریخ کا سب سے طویل ترین میچ تھا۔

نواک جاگووچ نے فائنل پانچ سات، چھ چار، چھ دو، چھ چار ت چھ سات ، اور سات۔پانچ سے جیت کر آسٹریلین اوپن کے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کیا۔

جاگووچ پچھلے مقابلوں میں رافیل ندال کو ہرا چکے ہیں اور کسی بھی ٹورنامنٹ میں ان کی مسلسل تیسری فتح ہے۔

نواک جاگووچ ایک روز پہلے ہی سیمی فائنل میں اینڈی مرے کے ساتھ چار گھنٹے کا میچ کھیل چکے تھے۔

سربیائی کھلاڑی نواک جاگووچ وننگ شاٹ کھیل کر کورٹ پر لیٹ گئے اور پھر اپنی شرٹ پھاڑ کر ہوا میں لہر دی۔

میچ جیتنے کے بعد جاگووچ نے کہا کہ رافیل ندال ٹینس کی تاریخ کے شاید بہترین کھلاڑی ہیں لیکن بدقسمتی سے فاتح صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔ مجھے امید ہیں کہ ہم کئی اور ایسے میچ کھیلیں گے۔

رافیل ندال نے میچ کے آغاز سے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن وہ نواک جاگووچ کو ایک بار پھر ہرانے میں ناکام رہے۔

رافیل ندال نے کہا کہ نواک جاگووچ اور ان کی ٹیم مبارک کے مستحق ہے اور انہوں نے کمال کر دکھایا ہے۔