پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر کی رہائی

محمد عامر تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption عامر نے لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر دو نو بال کرنے کا اعتراف کیا تھا

پاکستانی کرکٹر محمد عامر ایک میچ کے دوران سپاٹ فِکسنگ کے الزام میں چھ ماہ جیل کاٹنے کے بعد رہا ہو گئے ہیں۔

انیس سالہ محمد عامر کو بدھ کی صبح برطانیہ کے شہر ڈورسٹ میں پورٹلینڈ کی جیل سے رہا کیا گیا۔ انہیں نومبر میں کرکٹ ٹیم کے دیگر دو ارکان سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سن دو ہزار دس میں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں جان بوجھ کر نو بال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تینوں کھلاڑیوں پر پانچ سال تک کرکٹ کھیلنے کی بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔

سپاٹ فکسنگ کا سکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا جب اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے ایک رپورٹر نے ایک امیر ہندوستانی کاورباری کا روپ دھار کر ایجنٹ مظہر مجید سے رابطہ کیا کہ انہیں کچھ کھلاڑیوں کا تعاون درکار ہے۔

مظہر مجید نے اس رپوٹر سے وعدہ کیا کہ عامر اور آصف چھبیس اور انتیس اگست کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوران طے شدہ مواقع پر تین نو بال کروائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سات پاکستانی کھلاڑی ان کے لیے کام کرتے ہیں۔

مقدمے کے جج مسٹر جسٹس کوک نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے محمد عامر کے بارے میں کہا تھا کہ وہ غیر تعلیم یافتہ، سادہ اور دوسروں کا اثر لینے والے ہیں۔

عامر نے لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر دو نو بال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ وہ اس سیریز میں مین آف دی سیریز بھی قرار پائے اور کرکٹ کے بہت سے مبصرین نے امید ظاہر کی تھی انہیں اپنا کیریر دوبارہ شروع کرنے کا ایک موقع دیا جائے گا۔

اسی بارے میں