بی سی سی آئی کا ’سہارا‘ چلا گیا

بی سی سی آئی کا لوگو تصویر کے کاپی رائٹ bcci
Image caption سہارا گروپ گزشتہ گیارہ برس سے بی سی سی آئی کا سپانسر تھا

گزشتہ گیارہ برس سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے اہم سپانسر سہارا گروپ نے ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ بی سی سی آئی اور آئی پی ایل سے اپنا تعلق توڑ لیا ہے۔

سہارا انڈیا گروپ سنہ دو ہزّار ایک سے مسلسل ٹیم کا سرکاری سپانسر رہا ہے۔

یہ خبر آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی نیلامی سے کچھ ہی دیر پہلے آئی ہے جس میں تقریباً ایک سو چالیس قومی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی بولی لگنے والی ہے۔

سہارا انڈیا نے بی سی سی آئی سے درخواست کی کہ آئی پی ایل ٹیم ’پونے وائرس‘ کو کسی اور کو دے دیا جائے۔ واضح رہے کہ سہارا نے سال دو ہزا دس میں پونے وائرس کو سترہ ارب روپے میں خریدا تھا۔ سہارا کے اس فیصلے کے علاوہ سب سے بڑا فیصلہ ہے کہ وہ اب بھارتی کرکٹ ٹیم کو سپانسر نہیں کرے گا۔

سہارا انڈیا پریوار سال دو ہزار ایک سے مسلسل ٹیم کا سرکاری سپانسر رہا ہے۔ سہارا کے اس فیصلے کو بھارت کرکٹ کنٹرول بورڈ کے لیے اقتصادی جھٹکا کہا جارہا ہے۔

سال دو ہزار دس میں سہارا انڈیا پریوار نے آخری بار تین سال کے لیے چار ارب روپے کی بولی لگا کر کرکٹ ٹیم کی سپانسرشپ لی تھی۔

سہارا گروپ کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا ہے ’سپانسر کے طور پر گیارہ سال کے سفر کے بعد ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ کرکٹ میں کافی پیسہ آگیا ہے۔ بہت سے امیر ترین گروپس بے حد خواہش کے ساتھ کرکٹ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے موجود ہیں۔ اس لیے ہم پورے ذہنی سکون کے ساتھ بھاری دل سے بی سی سی آئی کے تحت آنے والی کرکٹ ٹیم سے علٰیحدگی اختیار کررہے ہیں۔‘

سہارا کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ’ہم بی سی سی آئی کے تحت آنے والے تمام طرح کی کرکٹ سے علٰیحدگی اختیار کررہے ہیں۔‘

سہارا گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بھارتی ٹیم کی سپانرشپ کرنا ہمارا جذباتی فیصلہ تھا، لیکن ہمارے جذبات کو کبھی نہیں سراہا گیا اور کئی موقعوں پر ہماری درخواست پر کوئی غور نہیں کیا گیا۔‘

سہارا گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ میں جب انہوں نے آئی پی ایل میں ٹیم خریدنے کی درخواست دی تھی تو انہیں ایک چھوٹی سی تکنیکی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا۔

سہارا گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پونے کی ٹیم میں یوراج سنگھ کی جگہ سوربھ گانگولی کو رکھنا چاہتے تھے لیکن بورڈ نے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے ایسا کرنے سے منع کردیا تھا۔

سہارا کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپانسرشپ واپس لینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے لیے بی سی سی آئی ذمہ دار ہے۔

اسی بارے میں