’لمبی اننگز کھیلنے کے لیے تیار تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین اظہرعلی کہتے ہیں کہ وہ ذہنی طور پر بڑی اننگز کھیلنے کے لیے تیار تھے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ ایک دو وکٹیں گرجانے سے ٹیم دباؤ میں آجاتی ہے۔

دبئی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں اظہر علی نے تقریباً نو گھنٹے کی طویل بیٹنگ میں ایک سو ستاون رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ یونس خان نے بھی ایک سو ستائس رنز کی اننگز کھیلی۔

اظہرعلی اپنی سنچری کا سہرا یونس خان کے تجربے اور رہنمائی کے سر باندھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یونس خان اننگز کے دوران ہر لمحے پر انہیں سمجھاتے رہے کہ اعتماد سے کھیلتے رہو اور اسکور بورڈ کو متحرک رکھو۔ جب تک یونس خان ان کے ساتھ بیٹنگ کرتے رہے وہ انہی کے انداز میں کھیلنے کی کوشش کرتے رہے۔

اظہر علی کہتے ہیں کہ وہ پہلے بھی کوشش کرتے رہے ہیں کہ نصف سنچری کو سنچری میں بدلیں لیکن کئی بار سنچری کے قریب آکر آؤٹ ہوگئے تاہم اس اننگز سے انہیں بہت حوصلہ ملا ہے۔

واضح رہے کہ اظہر علی نے انتالیس ٹیسٹ اننگز میں دو سنچریاں اور تیرہ نصف سنچریاں بنائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے وہ مستقل مزاجی سے رنز بنا رہے ہیں اور جب ٹیم جیتے تو خوشی دوہری ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں جو خوشی ابوظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں نصف سنچری اور پاکستان کی جیت پر ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔

اظہر علی کا کہنا ہے کہ اس وکٹ پر بیٹنگ آسان نہیں ہے اور انگلش بولرز نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی جس کی وجہ سے انہیں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

پاکستان کی جیت کے امکانات پر پرعزم لہجے میں اظہرعلی کہتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیم کو ریلکس نہیں کرنا ہوگا کیونکہ ایک بڑی پارٹنرشپ میچ کا نقشہ بدل سکتی ہے۔اگر انگلینڈ کی دو تین وکٹیں چوتھے دن جلد گرگئیں تو پھر پاکستانی ٹیم اس پر حاوی ہوجائے گی۔

اسی بارے میں