انگلینڈ کو جیتنے کے لیے 324 رنز کا ہدف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اظہر علی نے دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ایک سو ستاون رنز بنائے

انگلینڈ کو دبئی ٹیسٹ جیت کر وائٹ واش کی ہزیمت سے بچنے کے لیے 324 رنز کا ہدف ملا ہے۔

تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر اس نے بغیر کسی نقصان کے36 رنز بنائے تھے اور وہ اب بھی جیت سے288 رنز دور ہے۔

کپتان اینڈریو اسٹراؤس 19 اور نائب کپتان الیسٹر کک 15 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے لیکن کک اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ چار کے انفرادی اسکور پر عمرگل کی گیند پر سلپ میں توفیق عمر نے ان کا آسان کیچ ڈراپ کردیا۔

تفصیلی سکور بورڈ

اس سے قبل پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں365 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

اظہر علی نے آٹھ گھنٹے ترپن منٹ کی طویل بیٹنگ میں 157 رنز بنائے ۔

اظہرعلی اور یونس خان گزشتہ روز کے اسکور میں بائیس رنز کا اضافہ کرسکے۔ یونس خان بارہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 127 رنز بنا کر اسٹورٹ براڈ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

انہوں نے امپائر اسٹیو ڈیوس کے فیصلے پر ریویو لیا لیکن ٹی وی امپائر کا فیصلہ فیلڈ امپائر کے حق میں ہی رہا۔

یونس خان اور اظہر علی نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 216 رنز کا اضافہ کیا۔

اظہرعلی نے ثابت قدمی سے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی دوسری ٹیسٹ سنچری تین سو انہتر منٹ میں پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کی۔

ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری بھی گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف اسی گراؤنڈ میں بنی تھی۔

اظہرعلی کپتان مصباح الحق کے ساتھ اسکور کو 331 تک لے گئے۔

ان دونوں کی ستاسی رنز کی شراکت مونٹی پنیسر نے مصباح الحق کواکتیس رنز پر ایل بی ڈبلیو کر کے ختم کی۔

پاکستانی کپتان اس سیریز کی تمام پانچ اننگز میں ایل بی ڈبلیو ہوئے ہیں۔

ان کے آؤٹ ہونے کے بعد انگلش اسپنرز کو جیسے پاکستانی اننگز کا صفایا کرنے کا موقع مل گیا۔

پنیسر نے اسد شفیق کو پانچ رنز پر ایل بی ڈبلیو اور عدنان اکمل کو صفر پر بولڈ کردیا۔

سوآن نے دوسرے اینڈ سے عبدالرحمن اور سعید اجمل کو ایک ایک رن پر سلپ میں جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔

پانچ وکٹیں صرف انیس رنز کے اضافے پر گرگئیں۔

اظہرعلی کی طویل اننگز کا خاتمہ سوآن نے کیا جنہوں نے چار سو بیالیس گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے ایک چھکا اور دس چوکے لگائے۔

157 فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا بہترین انفرادی اسکور بھی ہے ۔ اس سے قبل انہوں نے دسمبر دو ہزار نو میں کے آر ایل کی طرف سے سوئی سدرن گیس کے خلاف ایک سو ترپن رنز ناٹ آؤٹ اسکور کئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یونس خان اور اظہر علی نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 216 رنز کا اضافہ کیا

مونٹی پنیسار نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ کے ساتھ پاکستانی بیٹنگ کو بھی ختم کردیا۔

عمرگل آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین تھے۔

پنیسار نے دسویں مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں ۔

انہوں نے اس سیریز میں دو ٹیسٹ کھیلتے ہوئےچودہ وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی ٹیم اگر یہ میچ جیتنےمیں کامیاب ہوتی ہے تو ایک سو پانچ سال میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی ٹیم نے پہلی اننگز میں سو سے کم اسکور پر آؤٹ ہونے کے باوجود ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی ہو۔ آخری مرتبہ 1907ء میں انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کے خلا ف ہیڈنگلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سو سے کم رنز پر آؤٹ ہونے کے باوجود میچ جیتا تھا۔

اگر انگلینڈ کی ٹیم یہ میچ جیتی تو یہ 1929 کے بعد یہ چوتھی اننگز میں اس کا سب سے بڑا ہدف ہوگا جب اس نے میلبرن ٹیسٹ میں تین سو بتیس رنز کا ہدف سات وکٹوں پر عبور کرکے آسٹریلیا کو ہرایا تھا۔

اسی بارے میں