افغانستان کا تاریخی ون ڈے جمعہ کو

افغانستان اور پاکستان کے درمیان واحد ون ڈے انٹرنیشنل جمعہ کو شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے۔

یہ افغانستان کا کسی ٹیسٹ ٹیم کے خلاف اولین ون ڈے انٹرنیشنل بھی ہے۔

افغانستان کے کپتان نوروز منگل نے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ پہلی بار کسی بڑی ٹیم سے کھیل رہے ہیں لیکن یہ ان کی ٹیم کے لیے چیلنج بھی ہے۔

نوروز منگل کا کہنا ہے کہ یقیناً پاکستان ایک بڑی ٹیم ہے جس کے سپنرز اس وقت زبردست فارم میں ہیں لیکن انہوں نے ہوم ورک کررکھا ہے اور وہ اچھی کارکردگی دکھانے کی پوری کوشش کریں گے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کسی کے لیے آسان نہیں ہے اور سب کو پتہ ہےکہ افغانستان کی ٹیم باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جسے آسان نہیں سمجھا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان کے خلاف پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں کھیل چکے ہیں اور انہیں اندازہ ہے کہ افغان کرکٹرز سخت جاں حریف ہیں۔

مصباح الحق کے خیال میں چھوٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیموں کا بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنا بہت ضروری ہے اسی سے ان کے تجربے میں اضافہ ہوگا۔

افغانستان کو اپنے تجربہ کار فاسٹ بولر حامد حسن کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی جو گھٹنے کے آپریشن کے سبب کرکٹ سے دور ہیں۔

افغانستان کو دو ہزار نو میں ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے کا استحقاق ملا تھا جس کے بعد سے اس نے اٹھارہ ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے ہیں جن میں سے گیارہ جیتے اور سات ہارے ہیں تاہم یہ تمام میچز کینیا۔اسکاٹ لینڈ۔ آئرلینڈ کینیڈا جیسی ٹیموں کے خلاف رہے ہیں۔

افغانستان کی ٹیم دو ہزار دس کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیل چکی ہے جس میں اس کا سامنا بھارت اور جنوبی افریقہ سے ہوا تھا۔

2010 کے ایشین گیمز میں افغانستان نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ سیمی فائنل میں اس نے فیورٹ پاکستان کو ہراکر سب کو حیران کردیا تھا۔

افغانستان کی ٹیم نے گزشتہ سال پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں اس نے پاکستان اے ٹیم کے خلاف تین ون ڈے کھیلے تھے۔

افغانستان کی ٹیم بھی پاکستان کی طرح اپنی کرکٹ ملک سے باہر کھیلنے پر مجبور ہے۔

آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل افغانستان میں کرکٹ کے ڈھانچے کو صحیح خطوط پر استوار کرنے میں مدد کررہے ہیں۔

افغانستان کی ٹیم آئندہ ماہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی ہے جس کی تیاری کے لیے اس نے ایک بار پھر کبیرخان کو کوچ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس سے پہلے بھی ٹیم کی کوچنگ کرچکے ہیں۔

افغان کرکٹ حکام باربارکوچ تبدیل کرتے رہے ہیں اس ضمن میں وہ پاکستان کے راشد لطیف اور انگلینڈ کے آفتاب حبیب کو بھی کوچ مقرر کرچکے ہیں لیکن کوئی بھی کوچ طویل مدت تک اپنی ذمہ داری نبھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

افغانستان نے آئندہ ماہ ایک بار پھر کبیر خان کو کوچ کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کرلیا ہے وہ اسوقت متحدہ عرب امارات کے کوچ ہیں۔

افغانستان کی ٹیم کے عارضی کوچ اور ایشین کرکٹ کونسل کے ڈیولپمنٹ آفیسر اقبال سکندر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کرکٹ صحیح سمت میں ترقی کررہی ہے اور وہاں کرکٹ ڈھانچہ بھی بڑی حد تک تیار ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابل اور جلال آباد میں اسٹیڈیمز تیار ہوچکے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑی ٹیمیں افغانستان کے ساتھ کھیلیں تاکہ افغان کرکٹرز کو بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ حاصل ہوسکے۔

اسی بارے میں