یہ شارجہ ہے یا کابل۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہر سٹینڈ میں افغان پرچم ہی نظر آ رہے تھے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دوسرا گھر کہلانے والا شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم اب افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے ہوم گراؤنڈ کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔

یہ اسی کا اثر تھا کہ افغانستان اور پاکستان کا ون ڈے انٹرنیشنل شروع ہونے سے پہلے ہی سٹیڈیم کے باہر ہرگیٹ پر صرف اور صرف افغان شائقین منفرد روپ دھارے سب کی توجہ اپنی جانب حاصل کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

کسی نے افغان پرچم کا لباس پہن رکھا تھا تو کوئی پرچم کو کندھے پر ڈالے ہوئے تھا۔ یہ لوگ اپنے ساتھ بینرز بھی لائے ہیں جن سے ایک پر افغان صدر حامد کرزئی کی تصویر بھی تھی۔

ہر کوئی مرکزی گیٹ سے ہی اسٹیڈیم میں جانے پر بضد تھا لیکن سکیورٹی والے انہیں سمجھا رہے تھے کہ ان کے پاس جو ٹکٹ ہیں وہ دوسرے گیٹ کے ہیں لیکن مرکزی گیٹ سے کوئی بھی ہٹنے کے لیے تیار نہ تھا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت تک افغان ٹیم سٹیڈیم نہیں پہنچی تھی اور ہر کوئی اپنے کھلاڑیوں کو قریب سے گزرتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔

حبیب اللہ بھی ایسے ہی ایک شائق ہیں جو دبئی میں رہتے ہیں لیکن اپنی ٹیم کو دیکھنے کا شوق انہیں شارجہ اسٹیڈیم لے آتا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ افغانستان کی ٹیم اب باقاعدگی سے شارجہ میں کھیلتی ہے لہذا وہ اپنے کھلاڑیوں کو دیکھنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرتے، وہ محمد شہزاد کی بیٹنگ کے دیوانے ہیں۔

حبیب اللہ کہتے ہیں کہ ان کا تعلق پکتیکا سے ہے جہاں بچوں میں کرکٹ کا بہت شوق ہے لیکن وہاں کھیلنے کی سہولتیں نہیں ہیں۔

شارجہ میں رہنے والے حاجی ملک خوش ہیں کہ افغانستان کی ٹیم شارجہ میں کھیل رہی ہے اور وہ سب کام چھوڑ کر سٹیڈیم آ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغان شائقین تھے کہ ہر شاٹ پر جھوم رہے تھے

حاجی ملک کو افسوس ہے کہ ان کے پسندیدہ کھلاڑی حامد حسن ان فٹ ہونے کے سبب پاکستان کے خلاف نہیں کھیل رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں نوروز منگل محمد نبی اور محمد شہزاد پسند ہیں۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وہ بولے شاہد آفریدی ان کے دل میں رہتا ہے۔

ضمیر جان نے صاف صاف کہا کہ وہ پاکستانی ٹیم کے لیے نہیں بلکہ افغانستان کی ٹیم کے لیے اسٹیڈیم آئے ہیں لیکن انہیں بھی دکھ ہے کہ ان کے پسندیدہ بولر حامد حسن یہ میچ نہیں کھیل رہے ہیں۔

ضمیر جان کو پاکستانی کھلاڑیوں میں عمران نذیر اور شاہد آفریدی پسند ہیں وہ کہتے ہیں کہ انہیں چوکے چھکے لگتے دیکھ کر مزا آتا ہے۔

ان افغان شائقین کو چھوڑ کر جب میں سٹیڈیم میں داخل ہوا تو ایک لمحے کے لیے یہ احساس ہوا کہ جیسے یہ میچ جلال آباد یا کابل میں کھیلا جارہا ہو۔

ہر سٹینڈ میں افغان پرچم ہی نظر آ رہے تھے اور افغان شائقین تھے کہ ہر شاٹ پر جھوم رہے تھے۔ ہر چوکے پر بڑے بڑے سپیکرز پر افغانی گانوں کی ایک جھلک پر ان کا جوش و خروش بڑھ جاتا تھا۔

سٹیڈیم میں موجود کمنٹیٹر رمیز راجہ اس پرجوش ماحول سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔

وہ کہتے ہیں کہ شارجہ میں کرکٹ کا روایتی حسن اتنے سال بعد بھی برقرار ہے لیکن افغان شائقین نے اس حسن کو مزید بڑھا دیا ہے۔ شارجہ پہلے صرف پاکستانی کرکٹ کا گڑھ تھا لیکن اب اس میں افغانستان بھی شریک ہوچکا ہے۔

اسی بارے میں