بالآخر بال چلے گۓ، یوراج سنگھ کا ٹوئیٹ

یوراج سنگھ
Image caption یوراج سنگھ کو تیزی کے ساتھ رن بنانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

بھارت کے معروف کرکٹر یوراج سنگھ نے ٹیوٹر پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں ان کا سر منڈا ہوا ہے۔

یوراج کینسر کے مرض کی تشخیص کے بعد اس وقت امریکہ میں زیر علاج ہیں اور ان کی کیمو تھریپی کی جا رہی ہے۔

یوراج سنگھ نے مائکرو بلاگنگ اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر لکھا ’بالآخر بال چلے گۓ۔‘

کثیر تعداد میں لوگ ٹیوٹر پر یوراج کے لیے ہمدردی کے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان لوگوں میں نامور ہستیاں بھی شامل ہیں جو ہمدردی کے ساتھ ساتھ یوراج کی مدح سرائی بھی کر رہی ہیں۔

چند دنوں قبل یوراج نے اپنے خیر خواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا تھا کہ ’وہ لوگوں کی محبتوں اور حمایت کے جذبے سے مغلوب ہیں۔‘

یوراج نے اپنے ایک اور ٹوئیٹ میں لکھا: ’ٹف ٹائم ڈونٹ لاسٹ، ٹف من ڈو‘ یعنی مشکل وقت زیادہ دنوں تک نہیں رہتا لیکن مضبوط آدمی ضرور رہتا ہے۔

یوراج نے یہ بھی لکھا کہ ’وہ اس بیماری سے لڑیں گے اور وہ مزید قوی انسان کے طور پر لوٹیں گے کیونکہ ان کے ہمراہ پورے ملک کی دعائیں ہیں۔‘

انھوں نے لکھا : ’میں ہر دن پھر سے اپنی انڈیا جرسی، انڈیا کیپ پہننے اور بھارت کی نمائندگی کرنے کے لیے پر امید ہورہا ہوں۔ جے ہند۔‘

یوراج نے کہا ہے کہ وہ لانس آرم اسٹرانگ کی خود نوشت پڑھ رہے ہیں۔ آرم اسٹرانگ ٹسٹیکولر کینسر کے موذی مرض سے صحتیاب ہو کر لوٹے تھے۔ یوراج نے لکھا کہ وہ اس سائیکلسٹ سے ملنا چاہتے ہیں۔

یوراج کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نیتیش روہتگی کہا کہ ’یہ کرکٹ کھلاڑی ذہنی طور پر بہت مضبوط ہے اور وہ ایسی حالت میں دوسرے لوگوں کے مقابلے تیزی کے ساتھ صحتیاب ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوراج کے لیۓ کئی جگہ پوجا ئیں کی جا رہی ہیں۔

یوراج کی صحت گذشتہ سال عالمی کپ کے دوران بگڑی تھی لیکن انھوں نے ہندوستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا اور پلیئر آف دی ٹورنامنٹ ہوئے تھے۔

ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ یوراج دس ہفتے میں پریکٹس شروع کرنے کی حالت میں آ جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یوراج کا کینسر ’سیمی نوما‘ پوری طرح قابل علاج ہے اور اس کے دوبارہ ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہوتے ہیں۔

تاہم ڈاکٹروں نے اس کے دوبارہ نہ ہونے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یوراج کے علاج کا خاطر خواہ اثر ہو رہا ہے۔

تیس سالہ کرکٹر کو گذشتہ ہفتے علاج کے لیے امریکہ لے جایا گیا ہے۔

اسی بارے میں