’تندولکر کو ریٹائر ہوجانا چاہیے‘

سچن تیندولکر تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption سچن کی ریٹائرمنٹ کے متعلق آج کل کافی تذکرے ہیں

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کپل دیو بھی ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جن کا خیال ہے کہ سچن تندولکر کو ایک روزہ کرکٹ سے فوراً ریٹائر ہوجانا چاہیے۔

سچن تندولکر کو کب ریٹائر ہونا چاہیے یا ہو جانا چاہیے تھا، یہ سوال آجکل کرکٹ کے شائقین میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

ادھر کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے یہ کہہ کر آگ کو مزید ہوا دی ہے کہ تندولکر، ویریندر سہواگ اور گوتم گھبھیر فیلڈنگ کے شعبے میں سُست ہیں اور اسی وجہ سے ان تینوں بڑے کھلاڑیوں کو یکے بعد دیگرے ٹیم کی روٹیشن پالیسی کے تحت ’ریسٹ‘ (آرام) دیا جارہا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر برسبین میں دھونی نے کہا تھا ’وہ تینوں ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں لیکن اس سے ہماری فیلڈنگ بری طری متاثر ہوگی، صرف یہ تین ہی نہیں ہماری ٹیم میں اور بھی کئی کھلاڑی ہیں جو فیلڈ میں سست ہیں۔۔۔ یہ لوگ (تینوں بڑے کھلاڑی) برے فیلڈر نہیں ہیں لیکن آسٹریلیا کے بڑے میدانوں میں وہ تھوڑے سُست نظر آتے ہیں۔ آسٹریلیا اور سری لنکا کے بلے باز ان پر دباؤ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

دھونی کے اس بیان کے بعد ان کی قاعدانہ صلاحیت پر تو سخت تنقید ہو ہی رہی ہے، ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہےکہ دو دہائی سے زیادہ عرصے تک اعلی ترین سطح پر کھیلنے کے بعد کیا واقعی سچن کو اب ایک روزہ کرکٹ کو خیر بات کہہ دینا چاہیے؟

پہلے پاکستان کے لیے واحد عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان عمران خان نے کہا تھا کہ ’ریٹائرمنٹ کا فیصلہ بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔ لیکن سچن کے لیے سب سے بہترین موقع یہ تھا کہ وہ عالمی کپ میں ٹیم کی فتح کے بعد اپنے رٹائرمنٹ کا اعلان کردیتے۔‘

عمران خان نے انیس سو بانوے کے عالمی کپ میں میں فتح کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

اب بھارت کے لیے انیس سو تراسی میں پہلا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان کپل دیو نے بھی کہا کہ ’ گزشتہ تین مہینوں میں ہم نے جو دیکھا ہے، اس کی بنیاد پر مجھے لگتاہےکہ سچن کو ورلڈ کپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کردینا چاہیے تھا۔ ہر کرکٹر کے جانے کا ایک وقت ہوتا ہے۔‘

سچن تندولکر ننانوے سینچری بنا چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی آخری سینچری تقریباً ایک سال پہلے بنائی تھی اور تب سے وہ بین الاقوامی کرکٹ میں سو سینچریوں کے سنگ میل کا انتظار کر رہے ہیں لیکن ان کے فارم نے ان کا ساتھ نہیں دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سچن اپنی سوویں سنچری بنانے کے لیے کافی دنوں سے کوشش میں ہیں

کپل دیو نے کہا کہ جو کھلاڑی وقت پر فیصلہ نہیں کر پاتے، سلیکشن کمیٹی کو دو ٹوک الفاظ میں انہیں بتا دینا چاہیے (کہ اب ان کے جانے کا وقت آگیا ہے)۔

کرکٹ کے تجزیہ نگار کشور بھیمانی کہتے ہیں کہ کپل دیو نے خود ریٹائر ہونے میں تاخیر کی تھی اور تقریباً دو سال تک خراب فارم کے باوجود محمد اظہرالدین کی کپتانی میں کھیلتے رہے تھے۔

کپل دیو کا کہنا تھا کہ ’شاید سچن خود اپنے مقابلے میں کرکٹ سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اظہر کا آج بھی کھیلنے کو دل کرتا ہے، سورو گینگولی کا بھی، اہم بات یہ ہے کہ سلیکٹر اس بارے میں کیا سوچتے ہیں۔‘

سچن تندولکر نے خود گزشتہ دو برسوں میں پابندی کے ساتھ ایک روزہ میچوں میں حصہ نہیں لیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مبصرین یہ کہتے رہے ہیں کہ سلیکشن کمیٹی کو ٹیم میں ان کی جگہ کسی نوجوان کھلاڑی کو دینے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

عہد رفتہ کے ممتاز آف سپنر ایراپلی پرسنا نے بھی کہا ہے کہ ’ کپل دیو نے جو کہا ہے وہ کافی حد تک صحیح ہے۔۔۔ اس میں کوئی شرم کی بات نہیں، یہ قدرتی عمل ہے کہ جب آپ اڑتیس انتالیس سال کے ہوجائیں تو پہلے جیسی رفتار باقی نہیں رہتی۔‘

آسٹریلیا میں سہ ملکی سیریز اپنے اختتام کی طرف ہے اور بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس سیریز کے ساتھ ہی دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیے جانے والے سچن تندولکر کا ایک روزہ کیرئیر بھی اختتام کو پہنچ جائےگا لیکن شاید ان حالات میں نہیں جن میں انہوں نے چاہا ہوگا۔

اسی بارے میں