محمد عامر اتوار کو وطن واپس پہنچ رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

فاسٹ بولر محمد عامر سپاٹ فکسنگ کیس میں سزا مکمل کرنے کے بعد اتوار کے روز وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

محمد عامر کے مقامی کوچ آصف باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اتوار کے روز لندن سے پاکستان پہنچنے والے ہیں۔

واضح رہے کہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر انہیں لندن کی عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی تاہم اچھے رویے کے سبب انہیں گزشتہ ماہ تین ماہ کی سزا کے بعد ہی رہائی مل گئی تھی۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار عبدالرشید شکور نے بتایا کہ انیس سالہ محمد عامر کو ان کی کم عمری کے سبب مرکزی جیل کے بجائے جنوب مغربی لندن میں اصلاحی مرکز میں رکھا گیا تھا۔

سپاٹ فکسنگ میں ملوث دیگر دو کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف اس وقت جیل میں ہیں جنہیں بالترتیب ڈھائی سال اور ایک سال قید کی سزا دی گئی تھی۔

محمد عامر کو آئی سی سی انٹی کرپشن ٹریبونل کی جانب سے پانچ سالہ پابندی کا بھی سامنا ہے اس فیصلے کے خلاف وہ کھیلوں کی بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتےہیں۔

بین الاقوامی کرکٹ کی سرکردہ شخصیات محمد عامر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی خواہش ظاہر کرچکی ہیں۔

سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پابندی مکمل ہونے کے بعد عامر کو انٹرنیشنل کرکٹ میں خوش آمدید کہنا چاہیے۔

سابق کوچ وقاریونس کا کہنا ہے کہ اگر محمد عامر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آتے ہیں تو کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک بریرلی نے بھی کہا تھا کہ محمد عامر سے نرمی برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ بک میکرز مافیا اور کرپٹ کرکٹرز کے لیے اپنے نوجوان ساتھی کرکٹرز کو قابو کرنا اور انہیں دباؤ میں لینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف بھی کہہ چکے ہیں کہ محمد عامر کے لیے اصلاح پروگرام مرتب کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی پابندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آسکیں۔

اسی بارے میں