کپتان تبدیل کرنےکا ارادہ نہیں: پی سی بی چیئرمین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصباح الحق کی کپتانی میں کھیلے گئے آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان نے چھ جیتے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے مصباح الحق کو کپتانی سے فوری طور پر ہٹائے جانے کو خارج ازامکان قرار دے دیا ہے۔

ذ کا اشرف نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ مصباح الحق بحیثیت کپتان اچھا کام کر رہے ہیں اور ہمیں انہیں سپورٹ کرنا چاہیے۔

تینوں فارمیٹ کے لیے علیحدہ کپتانوں کی تقرری کے بارے میں سوال پر ذکا اشرف نے کہا کہ فی الحال یہ مختلف حلقوں کی تجاویز ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ کرکٹ بورڈ کی کمیٹیاں جن میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز شامل ہیں ان کی مشاورت سے کیا جائے گا لیکن اہم فیصلے جلدی میں نہیں کئے جاتے۔

ذکا اشرف نے کہا کہ جو بھی فیصلے ہوں گے وہ پاکستانی کرکٹ کی بہتری کے لیے ہوں گے۔

واضح رہے کہ مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے عالمی نمبر ایک انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز تین صفر سے جیت کر کلین سوئپ کیا تاہم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مصباح الحق کی کپتانی میں پاکستان نے پندرہ ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے نو جیتے اور صرف ایک میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ انیس ون ڈے میں پاکستان نے چودہ جیتے ہیں اور صرف پانچ میں اسے شکست ہوئی ہے۔

مصباح الحق کی کپتانی میں کھیلے گئے آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان نے چھ جیتے ہیں۔

سابق کپتان رمیزراجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اس وقت ہر فارمیٹ کے لیے مختلف ٹیم کی ضرورت ہے لیکن کپتان کی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔

رمیز راجہ نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ مصباح الحق کی کپتانی میں ٹیم میں استحکام آیا ہے اور اسے یہ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیم میں کچھ نئے باصلاحیت کرکٹرز شامل کئے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ کپتان کی تبدیلی سے ٹیم کا نچلا ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوگا۔یہ ٹیم غلطیاں کر رہی ہے اور یہ غلطیاں کپتان بدلنے سے ٹھیک نہیں ہونگی یہ غلطیاں ٹیم میں تبدیلیاں لانے سے سدھریں گی۔

رمیز راجہ نے کہا کہ شائقین کی مایوسی اس لیے سمجھ میں آتی ہے کہ کوئی بھی توقع نہیں کر رہا تھا کہ ٹیسٹ سیریز کے شاندار نتیجے کے بعد ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اس طرح شکست سے دوچار ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی بیٹنگ ٹیسٹ سیریز میں بھی ناکام رہی لیکن بولرز کی انتہائی شاندار کارکردگی میں وہ چھپ گئی لیکن ون ڈے سیریز میں وہ بری طرح ایکسپوز ہوگئی۔

رمیز راجہ نے کہا کہ بیٹنگ کے علاوہ فیلڈنگ اور فٹنس پاکستانی ٹیم کے اہم مسئلے ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔

اسی بارے میں