’عامر پابندی کے خلاف اپیل نہیں کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پی سی بی نے محمد عامر کی ذہنی تربیت اور بحالی کا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

سپاٹ فکسنگ کیس میں سزایافتہ پاکستانی کرکٹر محمد عامر نے آئی سی سی کی جانب سے عائد کی گئی پانچ سالہ پابندی کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئی سی سی کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ محمد عامر نے انہیں مطلع کر دیا ہے کہ وہ کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں پابندی کے خلاف اپیل کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

محمد عامر کو سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر لندن کی عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی تاہم اچھے رویے کے سبب انہیں گزشتہ ماہ تین ماہ کی سزا کے بعد ہی رہائی مل گئی تھی اور اب وہ واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق اگرچہ آئی سی سی کو محمد عامر نے اپیل واپس لینے کی وجوہات نہیں بتائی ہیں لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ برطانوی عدالت میں سپاٹ فکسنگ کا جرم قبول کر چکے ہیں اس لیے اب ثالثی عدالت میں اب کا مقدمہ انتہائی کمزور ہو گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی محمد عامر کو آئی سی سی کی جانب سے پانچ سالہ پابندی کے خلاف اپیل میں کسی قسم کی قانونی مدد فراہم کرنے سے انکار کر چکا ہے۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے قواعد وضوابط کی روشنی میں محمد عامر کی ذہنی تربیت اور بحالی کا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئی سی سی کے ترجمان کے مطابق اس پروگرام کے دوران محمد عامر کے رویے اور سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کی سرکردہ شخصیات محمد عامر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہوئے ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی خواہش ظاہر کر چکی ہیں۔

اسی بارے میں