لاہور میں میراتھن ریس کا انعقاد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماضی میں لاہور میراتھن میں غیر ملکی ایتھلیٹ بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پرسوں کے روز ایک ایسی میراتھن ریس ہو رہی ہے جس میں خواتین کی شرکت پر پابندی ہے البتہ خواتین کے لیے الگ سے ایک دوڑ کروائی جارہی ہے۔

پنجاب میراتھن ریس اور فیملی فن ریس کے نام سے ہونے والی ان دونوں تقریبات کا اہتمام پنجاب سپورٹس بورڈ نے کیا ہے۔ لاہور میں میراتھن ریس کا انعقاد پانچ برس کے وقفے کے بعد کیا جارہا ہے۔

فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں تین بار ہونے والی میراتھن دوڑ میں خواتین کی شرکت پر بعض مذہبی جماعتوں نے پر تشدد احتجاج کیا تھا۔

لاہور میں سخت سکیورٹی میں یہ میراتھن کرائی گئی تھی جس میں بین الاقوامی اتھیلٹس نے بھی شرکت کی تھی۔ اس وقت کی پنجاب حکومت نے تمام اضلاع میں میراتھن کرانے کی کوشش کی جو پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔گوجرانوالہ میں میراتھن پر باقاعدہ حملہ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی جس میں متعددا فراد زخمی ہوئے۔

لاہور میں آخری میراتھن دوڑ سنہ دوہزار سات میں ہوئی تھی اور مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد پنجاب میں میراتھن نہیں کرائی گئی۔

اس برس پنجاب کی مسلم لیگ نون حکومت نے میراتھن کرانے کا اعلان تو کیا لیکن مرکزی سترہ کلومیٹر کی دوڑ میں خواتین کی شرکت پر پابندی لگا دی گئی۔چار مارچ کو ہونے والی اس دوڑ میں صرف مرد شریک ہوں گے۔

اس کے علاوہ اسی روز الگ سے ساڑھے تین کلومیٹر کی ایک فیملی فن ریس ہوگی جس میں خواتین بھی شرکت کرسکیں گی۔

ابھی تک کسی حلقے کی جانب سے اس دوڑ کی مخالفت نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں