واٹمور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

آسٹریلیا کے ڈیو واٹمور کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا نیا کوچ مقرر کر دیا گیا ہے اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ دو سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

ان کے علاوہ انگلینڈ کے جولین فاؤنٹین کو نیا فیلڈنگ کوچ مقرر کیاگیا ہے۔

واٹمور کو کوچ بنائے جانے کی باتیں ایک عرصے سے گردش کر رہی تھیں اور ان کی تقرری کا اعلان اتوار کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ذکاء اشرف نے کیا ہے۔

واٹمور جمعہ کو لاہور پہنچے تھے اور اسی روز انہوں نے کپتان مصباح الحق سےملاقات کے علاوہ ایشیا کپ کے لیے ٹیم کا انتخاب کرنے والی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اقبال قاسم سے بھی ملاقات کی تھی۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق واٹمورگیارہ مارچ سے ڈھاکہ میں شروع ہونے والے ایشیا کپ سے اپنی نئی ذمہ داری کا آغاز کریں گے اور اسی ٹورنامنٹ کے دوران سولہ مارچ کو وہ اٹھاون برس کے ہوجائیں گے۔

ان کا انتخاب اس کمیٹی کے ذریعے کیا گیا ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ نے وقاریونس کے مستعفی ہونے کے بعد نئے کوچ کی تلاش کے لئے انتخاب عالم کی سربراہی میں قائم کی تھی۔

وقاریونس کے استعفے کے بعد سابق چیف سلیکٹر محسن خان کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا عبوری کوچ مقرر کیا گیا تھا جن کے ہوتے ہوئے ٹیم نے بنگلہ دیش اور سری لنکا کے علاوہ عالمی نمبر ایک انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی تاہم ان کے نتائج کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ غیرملکی کوچ کی تقرری کے بارے میں ذہن بناچکا تھا۔

ڈیو واٹمور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چوتھے غیرملکی کوچ ہیں۔ ان سے قبل جنوبی افریقہ کے رچرڈ پائی بس، انگلینڈ کے باب وولمر اور آسٹریلیا کے جیف لاسن کوچ رہ چکے ہیں۔

واٹمور کا بحیثیت کرکٹر کیریئر مختصر اور غیرمتاثر کن رہا ہے تاہم کوچ کے طور پر وہ کامیاب رہے ہیں۔

واٹمور سری لنکا میں پیدا ہوئے تاہم آسٹریلیا منتقل ہوجانے کے بعد انہوں نے سات ٹیسٹ اور ایک ون ڈے انٹرنیشنل میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔

واٹمور سنہ 1996 کا عالمی کپ جیتنے والی سری لنکن ٹیم کے کوچ تھے۔ 2003 میں وہ بنگلہ دیشی ٹیم کے کوچ بنے تو ان کی کوچنگ میں ٹیم نے زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کے علاوہ آسٹریلیا کے خلاف کارڈف کے ون ڈے میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔

انہی کی زیرِ نگرانی بنگلہ دیشی ٹیم نے 2007 کے عالمی کپ میں بھارت کو ہراکر دوسرے راؤنڈ تک رسائی حاصل کی تاہم اس عالمی ایونٹ کے بعد واٹمور نے بنگلہ دیشی ٹیم سے تعلق ختم کرلیا۔

وہ انگلش کاؤنٹی لنکاشائر کے بھی کوچ رہے جس نے1998 میں ون ڈے ٹورنامنٹس جیتنے کے علاوہ 1999 میں لیگ ٹائٹل جیتا۔

پاکستانی ٹیم کا کوچ بننے کے لیے واٹمور نے آئی پی ایل کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈیو واٹمور سنہ دو ہزار سات میں بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے مضبوط امیدوار تھے لیکن ان کی سخت گیری اور ڈسپلن کی پابندی کےسبب ٹیم کے کئی کھلاڑی نہیں چاہتے تھے کہ وہ کوچ بنیں۔

لہذٰا کھلاڑیوں کے کہنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی جگہ جیف لاسن کو کوچ بنادیا تھا جو کوچنگ کا کوئی بھی تجربہ نہ ہونے کے سبب بری طرح ناکام رہے۔

انگلینڈ کے جولین فاؤنٹین دوسری مرتبہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ بنے ہیں۔ اکتالیس سالہ فاؤنٹین اس سے قبل 2006 کے دورہ انگلینڈ اور اس کے بعد پاکستان اے ٹیم کے ساتھ فیلڈنگ کوچ کی ذمہ داری نبھاچکے ہیں۔

وہ انگلینڈ ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی ٹیموں سے بھی منسلک رہے ہیں۔ فونٹین اولمپکس بیس بال میں برطانیہ کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں