سنوکر ہی زندگی کا مقصدہے:حسین وفائی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایران کے حسین وفائی آیوری سات سال کی عمر میں رنگ برنگی گیندوں کے سحر میں مبتلا ہوئے تھے تو اُس وقت سنوکر ان کے لئے محض شوق تھا لیکن اب یہ ان کے لئے مقصد حیات ہے کہ عالمی ایمیچیور چیمپئن بننے کے بعد وہ پروفیشنل ورلڈ چیمپئن بھی بننا چاہتے ہیں۔

سترہ سالہ حسین وفائی کراچی میں سات قومی انٹرنیشنل سنوکر چیمپیئن شپ کا فائنل نہ جیت سکے لیکن چیمپیئن شپ کے سب سے مقبول کھلاڑی کی حیثیت سے سب کے دل جیت کر اپنے شہر ابدان واپس گئے ہیں۔

حسین وفائی کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے گزشتہ سال کے اواخر میں بنگلور بھارت میں سنوکر کی عالمی چیمپئن شپ جیتی تھی اور اسی کارنامے کی وجہ سے ہر کوئی ان کا کھیل دیکھنے کے لئے بے تاب تھا۔

حسین وفائی نے اپنے خوبصورت کھیل اور نہایت اطمینان سے بڑے بریک کھیل لینے کی عادت سے فائنل تک آتے آتے شائقین کو مایوس نہیں کیا لیکن فائنل میں تھائی لینڈ کے تھیپچایا کے خلاف جیتی بازی ہار کر وہ خود بھی بہت مایوس ہوئے ہوں گے۔

حسین وفائی کہتے ہیں’میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ایک سال میں پروفیشنل سنوکر میں آؤں گا اور اس کے لئے میرے سامنے تین مواقع تھے کہ عالمی ایمیچیور چیمپئن شپ ، اے سی بی ایس انڈر 21 اور اکیس سال سے زائد عمر کی چیمپئن شپ میں سے کوئی ایک جیتوں اور میں نے ورلڈ چیمپئن شپ جیت لی۔ اب میں پروفیشنل سنوکر کا حصہ بننا چاہتا ہوں اور ظاہر ہے میری نظریں ورلڈ ٹائٹل پر لگی ہوئی ہیں۔‘

سنوکر سے دلچسپی کی وجہ جاننے کے لیے میں نے حسین وفائی سے پوچھا کہ یہ تعلق کیسے بنا؟ تو فارسی میں گفتگو کرنے والے حسین وفائی نے سادگی سے جواب دیتے ہوئے اس کا سبب اس کھیل کی رنگ برنگی گیندوں کو قرار دیا۔

’میرے گھر کے سامنے سنوکر کلب تھا ایک دن میرے والد بیرون ملک سے واپس آئے تو مجھے اس سنوکر کلب میں لے گئے میں رنگ برنگی گیندوں کے سحر میں ایسے کھوگیا کہ پھر اس سے نہ نکل سکا حالانکہ میں نے اسکول میں فٹبال بھی کھیلی لیکن سنوکر اب میری زندگی ہے۔‘

حسین وفائی الیکٹرانک میں ڈپلومہ ہولڈر ہیں اور جان ہگنز ان کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انتہائی کم عرصے میں انہوں نے جو کارکردگی دکھائی ہے اس پر سینئر کھلاڑی حیران ہیں لیکن وہ سب حسین وفائی کا روشن مستقبل دیکھ رہے ہیں۔

سابق ایشیئن چیمپیئن بھارت کے یاسین مرچنٹ کے خیال میں غیرملکی کوچ کی وجہ سے حسین وفائی کے کھیل میں غیرمعمولی تبدیلی آئی ہے ’حسین وفائی میں زبردست ٹیلنٹ موجود ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کا کھیل ایک جگہ آکر ٹھہر گیا تھا لیکن جب سے ایران نے سابق پروفیشنل ڈیوڈ رو کی خدمات حاصل کی ہیں حسین وفائی کے کھیل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ان میں پروفیشنل کھلاڑیوں کی سوچ بیدار ہوئی ہے۔‘

حسین وفائی سے میں نے پوچھا کہ ایران میں سنوکر کا کیا حال احوال ہے؟

حسین وفائی کا جواب تھا، ’ایران میں اس وقت ایک ہزار کے لگ بھگ سنوکر کلبس ہیں۔ نوجوانوں میں اس کھیل کا بہت جوش وخروش پایا جاتا ہے اور حکومت بھی اس کی سرپرستی کررہی ہے۔‘

اسی بارے میں