تندولکر سے’لٹل ماسٹر‘ تک

سچن تندولکر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تندولکر ذہین ترین ہیں، میں تو بندہ بشر ہوں: لارا

سچن تندولکر قد میں صرف پانچ فٹ پانچ انچ ہونے کے باوجود کرکٹ کی قد آور شخصیت ہیں۔ سولہ مارچ سن دو ہزار بارہ کو انہوں نے سوویں بین الاقوامی سنچری بنا کر کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں اپنا نام شامل کر لیا ہے۔

تندولکر لٹل ماسٹر کیسے بنے؟ بیس سال سے کرکٹ کے اعلیٰ ترین معیار پر قائم رہنے والے اڑتیس سالہ تندولکر کا ٹیلنٹ ابتداء سے ہی عیاں تھا۔

فروری انیس سو اٹھاسی میں جب وہ سکول میں تھے انہوں نے اپنے ساتھی ونود کامبلی کے ساتھ مل کر چھ سو چونسٹھ رن کی شراکت کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس اننگز میں انہوں نے تین سو چھبیس رن بنائے تھے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

تندولکر نے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز سولہ سال کی عمر میں کراچی میں پاکستان کے خلاف کیا۔ اپنی پہلی اننگز میں انہوں نے صرف پندرہ رن ہی بنائے لیکن اس میں انہوں نے اپنی ہمت کا ثبوت ضرور فراہم کیا۔ باری کے آغاز میں ہی ان کے چہرے پر وقار یونس کا باؤنسر لگا لیکن انہوں خون بہنے کے باوجود بیٹنگ جاری رکھی تھی۔

دنیا کے بہترین بالروں کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ وقت کے ساتھ انڈیا کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کی توجہ اور امیدوں کا مرکز بن گئے۔

انڈیا کے سابق آل راؤنڈر کپیل دیو نے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں لوگ سچن تندولکر سے پیار کرتے ہیں اور ہر بچہ سچن تندولکر بننا چاہتا ہے۔

تندولکر نے پہلی سنچری سترہ سال کی عمر میں انگلینڈ کے خلاف بنائی تھی۔ انیس سو بانوے میں وہ یارکشائر کاؤنٹی کی ٹیم کا حصہ بن گئے اور پہلے سیزن میں ایک ہزار رن بنائے۔

پچیسویں سالگرہ سے پہلے وہ سولہ سنچریاں بنا چکے تھے اور سن دو ہزار میں وہ پچاس سنچریاں بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔

ویسٹ انڈیز کے سابق کھلاڑی ووین رچرڈز نے تندولکر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کچھ خاص بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’ننانوے اعشاریہ پانچ فیصد مکمل ہیں۔‘

کرکٹ کے میدان سے دور تندولکر منکسر المزاج انسان ہیں۔ وہ پِچ پر اس سے دور ایک مثالی پروفیشنل ہیں۔

تندولکر کہتے ہیں کہ ان کے لیے کرکٹ ہمیشہ انتہائی اہم تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی کاروں یا دیگر چیزوں کی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا۔

پیسہ اور دیگر دنیاوی امور انکی ترجیحات میں شامل نہیں تھے۔ ’میرا ہمیشہ سے خواب تھا کہ انڈیا کی ٹیم کا یونیفارم پہنوں۔‘

تاہم ہمیشہ سب کچھ ان کے حق میں نہیں گیا۔ بحیثیت کپتان وہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہیں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں شکست ہوئی۔

بحیثیت بلے باز بھی ان پر مشکل وقت آیا۔ انہوں نے دسمبر سن دو ہزار چار اور مئی دو ہزار سات کے درمیان صرف ایک ٹیسٹ سنچری بنائی۔ اسی دوران جب وہ ممبئی میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے تو شائقین نے ان پر آوازیں کسیں۔

تندولکر نے سن دو ہزار آٹھ میں برائن لارا کا گیارہ ہزار نو سو ترپن رن کا ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ رن بنانے کا ریکارڈ توڑ دیا۔

کرکٹ کے شائقین کو ہمیشہ تندولکر اور لارا میں سے ایک کو چننے میں مشکل پیش آئی ہے لیکن لارا کو کبھی شق نہیں تھا کہ بڑا کون ہے۔ لارا کا کہنا ہے کہ ’تندولکر ذہین ترین ہیں، میں تو بندہ بشر ہوں۔‘

تندولکر کرکٹ کی ہر صنف میں آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سن دو ہزار دس میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ میچ میں ڈبل سنچری بنائی اور وہ ایسا کرنے والے پہلے کھلاڑی تھے۔ ایک سو انہترواں ایک روزہ میچ کھیل کر وہ سب سے زیادہ ایک روزہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی بن گئے۔

مارچ دو ہزار گیارہ میں جنوبی ایشیاء میں ہونے والے عالمی کپ میں انہوں نے تقریباً پانچ سو رن بنائے اور ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

تندولکر کی سوویں سنچری کے لیے لوگوں کے اشتیاق کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ، دو ہزار گیارہ میں انگلینڈ کے دورے کے دوران لارڈز میں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے دو ہزارویں ٹیسٹ میچ کے دوران، انڈیا میں کرکٹ کے شائقین نے ان کی سنچری پر دو کروڑ اسّی لاکھ پاؤنڈ کی شرطیں لگائی تھیں۔

انڈیا کےشائقین کی اس وقت خواہش پوری نہیں ہو سکی تھی لیکن اب تندولکر نے بالآخر سوویں سنچری کا خواب پورا کر دیا ہے۔

اسی بارے میں