’بریڈمین کے بعد سچن ہی ہیں‘

سچن تندولکر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سچن تندولکر نے بائیس سال قبل اپنا بین الاقوامی کیریئر شروع کرتے ہوئے عمران خان، وسیم اکرم، وقاریونس اور عبدالقادر جیسے بڑے بالروں کا سامنا کیا تھا

سچن تندولکر کی سنچریوں کی سنچری بنگلہ دیش میں بنی ہے اور جشن بھارت میں منایا جارہا ہے۔ لیکن ان کے اس کارنامے کی گونج پاکستان میں بھی محسوس کی گئی ہے کیونکہ اگر سچن تندولکر بھارت میں بھگوان کا درجہ رکھتے ہیں تو پاکستان میں بھی ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔

ماضی کے لٹل ماسٹر حنیف محمد عصر حاضر کے لٹل ماسٹر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ’سر ڈان بریڈمین کے بعد بیٹنگ کو پرکھنے کا اگر کوئی پیمانہ ہے تو وہ ہے سچن تندولکر۔‘

حنیف محمد کہتے ہیں کہ ’سچن کو جو باتیں دوسروں سے نمایاں کرتی ہیں وہ ہیں ان کا انہماک، ہر گیند کو اس کے میرٹ کے مطابق کھیلنے کی خوبی، درست تیکنیک اور کریز پر طویل وقت گزارنے کی عادت۔‘

سچن نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کے لیے چودہ اور پہلی ون ڈے سنچری کے لیے چھہتر اننگز کا طویل انتظار کرایا تھا۔ لیکن اس انتظار میں بھی انہوں نے خود پر شاید اتنا زیادہ دباؤ محسوس نہ کیا ہو جتنا دباؤ اور تنقید کا سامنا انہیں اس ایک سال کے عرصے میں رہا۔ اس عرصے میں ان کے ساتھ کھیلنے والے کرکٹر انہیں ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔

لیکن حنیف محمد ایسے مشوروں کو سچن کے ساتھ حسد و رقابت تصور کرتے ہیں۔

میرے خیال میں کوئی بھی خیر خواہ سچن کو ریٹائرمنٹ کا مشورہ نہیں دے سکتا۔ ایسا مشورہ وہی دے سکتا ہے جو ان سے حسد کرتا ہو۔ یہ درست ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے وہ زبردست دباؤ میں تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مکمل ناکام ثابت ہوئے تھے۔ یہ بات سچن کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں کب اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے اور یہ فیصلہ انہی کو کرنے دینا چاہئے۔‘

سچن تندولکر میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ ان کا کریئر بائیس سال سے پوری آب وتاب کے ساتھ جاری ہے؟

سابق کپتان جاوید میانداد اسے سچن کی نیک نیتی اور محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

’کسی بھی کرکٹر کے طویل کیریئر کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کھیل پر بھرپور توجہ رکھتا ہے، اپنی فٹنس کا خیال رکھتا ہے اور غیرضروری معاملات سے خود کو دور رکھتا ہے۔ سچن نے بھی اپنے پورے کریئر میں صرف اور صرف کرکٹ پر ہی توجہ رکھی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اتنی غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایسے ریکارڈ قائم کردیئے کہ جنہیں توڑنا انتہائی مشکل ہے۔‘

سچن تندولکر نے بائیس سال قبل اپنا بین الاقوامی کیریئر شروع کرتے ہوئے عمران خان، وسیم اکرم، وقاریونس اور عبدالقادر جیسے بڑے بالروں کا سامنا کیا تھا۔

عبدالقادر اپنے خلاف سچن کی جارحانہ بیٹنگ کو ابھی تک نہیں بھولے۔

’سچن نے پشاور کے ون ڈے میں مجھے تین چھکے لگائے تھے بلکہ دوسرے بالروں کو بھی نہیں بخشا تھا۔ وہ جب کراچی میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلے تو وقار یونس کی ایک انتہائی تیز گیند پر اگرچہ وہ بیٹ ہوئے تھے لیکن جس اعتماد سے انہوں نے اس گیند کو کھیلنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس سے پتہ چل گیا تھا کہ وہ کوئی معمولی بیٹسمین نہیں ہونگے۔‘

عبدالقادر کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کا بڑا ہونا اس کے کھیل کے ساتھ ساتھ اس کے طرز عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ’سچن جتنے بڑے کرکٹر ہیں اتنے ہی بڑے انسان بھی ہیں۔ انکساری کا پیکر ہیں اور نوجوان کرکٹروں کو ان سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں