فٹنس،کارکردگی پر توجہ دینے کا وقت: مصباح

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصباح کی کپتانی کافی کامیاب رہی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ مسلسل اور انتھک کرکٹ کھیلنے کے بعد ملنے والے آرام کا فائدہ ہوا ہے اور تمام کرکٹرز تازہ دم ہوکر آنے والے سیزن کے لیے خود کو تیار کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم جون میں سری لنکا کے دورے سے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کرے گی جس میں اسے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کی مکمل سیریز کھیلنی ہے۔

اس کے بعد پاکستانی ٹیم اگست میں آسٹریلیا سے ون ڈے سیریز کھیلنے دوبارہ سری لنکا جائے گی اور پھر ستمبر میں اسے ایک بار پھر سری لنکا جانا ہوگا جہاں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلا جائے گا۔

پاکستانی کرکٹرز گزشتہ دنوں کوچ ڈیو واٹمور کی نگرانی میں فٹنس ٹیسٹ کے مرحلے سے گزرے ہیں۔

بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے پاکستانی کپتان نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے کئی ماہ تک ملک سے باہر مسلسل کرکٹ کھیلی اور اچھے نتائج بھی دیے۔ کرکٹرز کو اب جو وقت ملا ہے اس کا فائدہ یہ ہورہا ہے کہ وہ اپنی فٹنس پر مکمل توجہ دیں اور اپنی کارکردگی کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس میں بہتری لانے کے بارے میں سوچیں۔

مصباح الحق کو یقین ہے کہ اس آرام کے بعد جب کرکٹرز دوبارہ میدان میں اتریں گے تو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرینگے۔

کوچ ڈیو واٹمور کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ ہر کھلاڑی پر توجہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ فٹنس اور کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم کا بہترین کامبینیشن تیار کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے۔

مصباح الحق سے جب پوچھا گیا کہ کیا انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی طرح پاکستان میں بھی تینوں فارمیٹ کی الگ الگ ٹیمیں بن سکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ہر فارمیٹ میں ایک ہی ٹیم نہیں کھیلتی۔ انہوں نے کہا کہ موقعے کی مناسبت سے تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور گیارہ میں سے تین چار کرکٹرز مختلف فارمیٹ میں تبدیل ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ملکوں میں بھی یہی ہوتا ہے، کچھ کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جو ٹیم کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں وہ ہر فارمیٹ میں کھیلتے ہیں اور کچھ اسپیشلسٹ ہوتے ہیں جو کسی فارمیٹ کی ضرورت کے مطابق ٹیم کا حصہ بنتے ہیں۔

مصباح الحق کپتانی کو بوجھ نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی بھی کرکٹر اپنے کھیل سے لطف نہیں اٹھائے گا اس سے جنون کی حد تک محبت نہیں کرے گا اس وقت تک اس کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا بہت مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کپتانی سے بھرپور لطف اٹھا رہے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ صورتحال کی مناسبت سے درست فیصلے کریں۔ انہوں نے بتایا اس وقت وہ جس ٹیم کی کپتانی کر رہے ہیں وہ بہت ہی زبردست ہے اور کسی بھی کپتان کے لیے آسانی اس کی ٹیم پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کرکٹرز اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں اور اس ٹیم کی قیادت ان کے لیے بہت ہی اچھا تجربہ رہا ہے۔

واضح رہے کہ مصباح الحق کا بحیثیت کپتان ریکارڈ متاثرکن رہا ہے۔ وہ 15 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کرچکے ہیں جن میں سے پاکستان نے9 جیتے ہیں اور صرف ایک میں اسے شکست ہوئی ہے۔ اسی طرح ان کی قیادت میں کھیلے گئے23 ون ڈے انٹرنیشنل میں سے پاکستان نے17 میچز جیتے ہیں اور 6 میں اسے شکست ہوئی ہے۔ ان کی جیت کا تناسب 73فیصد ہے جو کسی بھی پاکستانی کپتان کی بہترین اوسط ہے۔

پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں کھیلے گئے 8 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سے 6 جیتے ہیں ۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی ٹیم کو اپنی کپتانی میں صف اول کی ٹیموں میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کی اپنی اہمیت ہوتی ہے لیکن جو ذمہ داری جس وقت آپ کو دی گئی ہو اسے بہتر طور پر نبھانا آپ کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو سیریز یا میچ آپ کھیل رہے ہوتے ہیں پہلے اس پر توجہ رکھنی ضروری ہوتی ہے۔

اسی بارے میں