’بھارت تمہارے کھیل کو تمہاری ضرروت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’بھارت کے پاس ایک خصوصی تحفہ ہے کہ وہ کرکٹ کے کھیل کی شکل تبدیل کر سکتا ہے‘

کرکٹ کی بائبل سمجھے جانے والے برطانوی جریدے وزڈن کے ایک سو انچاسویں ایڈیشن میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ اس وقت ایک گہری کھائی کے کنارے کھڑی ہے اور صرف بھارت ہی وہ ملک ہے جس کے پاس اسے واپس کھینچ لانے کی طاقت ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ خیال وزڈن کے سینتیس سالہ مدیر لارنس بوتھ کا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی بہتات ہے جس کی وجہ سے کرکٹ کا کھیل نازک صورتحال سے دوچار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کرکٹ کا کھیل جس مقام پر کھڑا ہے اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہے اور اس کی وجہ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہے جسے ہر مسئلے کا حل تو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے لیکن درحقیقت وہ ایک پنڈورہ باکس ہے‘۔

دو میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے بوتھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کھیل کے کرتا دھرتاؤں کا ٹیسٹ کرکٹ پر اصرار اتنا زیادہ رہا ہے کہ اب ان کی بات اپنے معنی ہی کھو چکی ہے۔

انہوں نے جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر تو ہلکی پھلکی تنقید کی ہے لیکن ان کا اصل ہدف بھارت دکھائی دیتا ہے جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’بھارت کے پاس ایک خصوصی تحفہ ہے کہ وہ کرکٹ کے کھیل کی شکل تبدیل کر سکتا ہے لیکن ان کا کھیل اکثر و بیشتر چند افراد کے ذاتی مفاد کے تحت چلتا دکھائی دیتا ہے‘۔

بوتھ کے مطابق دیگر ممالک میں بھی کرکٹ کو ان کے اپنے مفادات کے تحت ہی چلایا جا رہا ہے لیکن ان میں سے نہ تو کسی کے پاس بی سی سی آئی جتنی طاقت ہے اور نہ ہی ان پر اتنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

بوتھ لکھتے ہیں کہ ’بھارت کی بیٹنگ کا بکھرنا وہاں ٹی ٹوئنٹی پر مبنی نیشنلزم میں اضافے اور نجی مارکیٹنگ کمپنیوں اور اعلیٰ سطح پر مفادات کے ٹکراؤ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ان کے مطابق بھارت میں آئی پی ایک اور چیمپیئنز لیگ ایک کرکٹ سیزن کا بیس فیصد وقت لیتی ہیں اور یہ اس مایوسی کو جنم دیتی ہیں جسے کرکٹ فٹیگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ہر لحاظ سے مکمل طوفان ہے اور عالمی کرکٹ اس کے عین درمیان میں ہے‘۔

وہ بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بھارت تمہارے کھیل کو تمہاری ضرروت ہے‘۔

اسی بارے میں