خاتون کرکٹر کا خواب پورا نہ ہو سکا

دیانہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گلگت شہر میں کرفیوں کی وجہ سے انھیں وقت پر پاسپورٹ نہیں مل سکا

گلگت بلتستان میں حالیہ تشدد کے بعد کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے وہاں کی خاتون کرکٹر کا جاپان میں کھیلنے کا خواب پورا نہ ہوسکا۔

دیانہ بیگ کو جاپان کے دورے پر جانے والی پاکستان کی خواتین کی اے ٹیم میں شامل تو کیا گیا تھا لیکن گلگت میں حالات کی وجہ سے وہ جاپان کے دورے پر نہیں جاسکیں۔

پاکستان کی خواتین ٹیم اے منگل کے روز جاپان کے لیے روانہ ہوگئی جہاں وہ پاکستان اور جاپان کے تعلقات کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر کرکٹ میلے میں حصہ لے رہی ہے۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم میزبان کرکٹ ٹیم کے ساتھ اٹھائیس، انتیس اور تیس اپریل کو تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلے گی۔

دسویں جماعت کی طالبہ دیانہ بیگ گلگت بلتستان کی پہلی خاتون ہیں جنہیں قومی سطح پر پاکستان کی کسی بھی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع ملا۔

پاکستان کے کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی نے انھیں حال ہی میں دورہ جاپان کے لیے پاکستان کی خواتین کی اے ٹیم میں شامل کیا تھا۔

لیکن دیانہ نے ٹیلیفون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت شہر میں کرفیوں کی وجہ سے انھیں وقت پر پاسپورٹ نہیں مل سکا جس کی وجہ سے وہ جاپان کے دورہ پر نہیں جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ’میں نے 28 مارچ کو گلگت میں پاسپورٹ کے لیےدرخواست دی لیکن چند روز بعد ہی گلگت کے حالات خراب ہوگیے اور کرفیو نافذ کیا گیا۔ ویسے تو مجھے 4 یا 5 اپریل کو پاسپورٹ ملنا تھا لیکن کرفیو کی وجہ سے بہت دیر سے پاسپورٹ ملا جبکہ مجھے 8 یا اپریل کو ویزہ کے لیے پی سی بی کے پاس پاسپورٹ جمع کرانا تھا۔میرا پاسپورٹ 4 اپریل کو بن چکا تھا اور بس کے ذریعے بیجھا بھی گیا تھا لیکن گلگت بلتستان میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہ بس راستے سے ہی واپس ( اسلام آباد) چلی گئی جس کے ذریعے ڈاک گلگت بیجھی جارہی تھی‘۔

دیانہ نےگلگت شہر میں ارجنٹ پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تھی جو ان کے بقول مقررہ وقت پر سات ایام میں بن چکا تھا لیکن گلگت میں کرفیو کی وجہ سے انھیں پاسپورٹ بروقت نہیں مل سکا۔

پاسپورٹ کے حصول کے لیے پاکستان کے کسی بھی شہر میں درخواست جمع کرائی جاسکتی ہے لیکن مشین ریڈایبل پاسپورٹ اسلام آباد میں ہی تیار ہوتے ہیں۔

پاکستان میں شہریوں کو ارجنٹ یا نارمل پاسپورٹ حاصل کرنے کی سہولت ہے۔ ارجنٹ پاسپورٹ سات دن میں بن جاتا ہے جبکہ نارمل پاسپورٹ چھ ہفتوں کے اندر بن جاتا ہے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے علاقے گلگت اور چلاس میں دو اپریل کو فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھے تھے جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے، ان واقعات کے بعد گگلت شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

شہر میں وقتاً وقتاً کرفیو میں نرمی دی جاتی رہی لیکن سولہ اپریل سے دن کے وقت کا کرفیو مکمل طور پر اٹھا لیا گیا جبکہ رات کا کرفیو اب بھی بدستور جاری ہے۔

دیانہ بیگ کا کہنا ہے کہ وہ آل راونڈر ہیں لیکن انھیں دائیں ہاتھ سے فاسٹ بالنگ میں مہارت حاصل ہے۔

جاپان کا دورہ کرنے والی پاکستان ٹیم میں شمولیت پر دیانہ ، ان کے والدین اور بہن بھائی بہت خوش ہوئے تھے لیکن حالات کی وجہ سے انھیں جاپان کا دورہ کرنے کا موقع نہیں مل سکا جس پر انھیں دکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’شروع میں بہت دکھ پہنچا تھا لیکن پھر میں نے یہ احساس کیا کہ جو ہوتا ہے ٹھیک ہی ہوتا ہے اور جو نصیب میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے۔ میرا جب لکھا ہوگا باہر جانا تو میں جاؤں گی اور اب پاکستان کی اے ٹیم میں نہیں بلکہ اگلی بار میں براہ راست خواتین کی پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں کھیلوں گی اور میں زیادہ محنت کروں گی‘۔

دیانہ دو سال سے پاکستان میں کرکٹ کھیل رہی ہیں اور ان کا ارداہ ہے کہ وہ مستقل میں کرکٹ کو ہی اپنا کریئر بنائیں گی اور اس کے لیے انھیں اپنے خاندان کا مکمل تعاون حاصل ہے۔

اسی بارے میں