کپتانی سے ہٹانے میں مصباح کی مرضی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جو بھی فیصلہ کیا جائے اس کی مخالفت کوئی نہ کوئی تو ضرور کرتا ہے

مصباح الحق کو نہ صرف پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے بلکہ وہ سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کا حصہ بھی نہیں ہیں لیکن کیا یہ فیصلہ مصباح الحق مرضی سے ہوا۔ یہ وہ سوال تھا جو جمعرات کو پی سی بی کی پریس کانفرنس میں شامل ہر صحافی کی زبان پر تھا۔

پریس کانفرنس میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ذکا اشرف نے جب محمد حفیظ کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان بنانے کا اعلان کیا تو وہ کافی دیر یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ فیصلہ تو مصباح الحق کے مشورے سے کیا گیا ہے اور یہ کہ مصباح اور حفیظ دونوں میں کافی ہم آہنگی ہے اور مصباح کے خیال میں اگر کوئی ان کی جگہ لے سکتا ہے تو وہ حفیظ ہی ہے۔

صحافیوں کے اس فیصلے پر تند و تلخ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے جب بھی چیئرمین صاحب نے اپنے فیصلے کو صحیح قرار دیا تو وہ پریس کانفرنس میں موجود مصباح الحق کی جانب دیکھ کر ان سے تائید چاہتے رہے اور بعض دفعہ تو مصباح الحق ان کی تائید میں سر بھی ہلا دیتے تھے۔

کسی نے پوچھا کہ بھئی مصباح الحق نے تو گزشتہ سات ون ڈے میچوں کی کپتانی کی اور ان میں سے پانچ پاکستان نے جیتے تو کیا اس نئے فیصلے سے جیت کا تسلسل نہیں ٹوٹے گا تو ذکا اشرف کا جواب تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مصباح کی بطور کپتان کارکردگی بہت زبردست رہی ہے لیکن جو دنیا میں آیا ہے اسے جانا تو ہے اور کوئی بھی اپنے عہدے پر ہمیشہ نہیں رہ سکتا اس لیے ٹیم کا مستقبل سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ ضروری تھا اور یہ کہہ کر انہوں نے ایک بار پھر تائید کے لیے مصباح الحق کی جانب دیکھا۔

اس سوال پر اگر یہ فیصلہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد کیا جاتا تو کیا زیادہ اچھا نہ ہوتا تو ذکا اشرف نے کچھ مزاحیہ انداز میں کہا کہ جو بھی فیصلہ کیا جائے اس کی مخالفت کوئی نہ کوئی تو ضرور کرتا ہے اور یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کی رائے تو یہ تھی کہ مصباح الحق سے ون ڈے کی کپتانی بھی لے لی جائے لیکن ہم نے تو صرف ٹی ٹونٹی ہی کی کپتانی لی۔

اگرچہ چیئرمین پی سی بی تو یہ کہتے رہے کہ اس فیصلے میں مصباح الحق کی مرضی شامل تھی لیکن جب مصباح الحق سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کیا کہیں گے تو انہوں نے بار بار یہی کہا کہ فیصلہ کرکٹ بورڈ کا ہے اور وہ اسے ماننے کے پابند ہیں۔ ان سے صحافیوں نے الگ الگ بھی یہ بات کریدنے کی کوشش کی تاہم وہ ہر بار یہی کہتے رہے کہ یہ بورڈ کا فیصلہ ہے۔

مصباح الحق سے جب یہ پوچھا گیا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کا مستقبل کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کرکٹر کے خون میں ہوتی ہے اور وہ تمام طرح کی کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں اور اگر ٹیم کو ضرورت ہوئی اور سلیکٹرز نے چاہا تو وہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے لیے بھی اپنی خدمات دیں گے۔

بظاہر مصباح الحق اس فیصلے پر کچھ زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پریس کانفرنس میں مصباح الحق اور محمد حفیظ دونوں ایک دوسرے کی مداح سرائی کرتے رہے کیونکہ ٹیسٹ اور ون ڈے میں تو حفیظ مصباح الحق کے نائب ہیں لیکن اصل مزا تو یہ ہے کہ میدان میں بھی کپتان اور ان کے نائب کپتان میں اتنی ہی ہم آہنگی نظر آئے۔

اسی بارے میں