’بلیو ٹرف پر کھیلنے کا کوئی تجربہ نہیں‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی ہاکی ٹیم اولمپکس کی تیاری کے طور پر اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے جو بلیو ٹرف پر کھیلا جا رہا ہے۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے نئے کپتان سہیل عباس کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم بلیو ٹرف کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوئے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لندن اولمپکس میں ہاکی کے مقابلے پہلی بار روایتی سبز آسٹروٹرف کے بجائے نیلے رنگ کی ٹرف پر کھیلے جائیں گے اور اولمپکس کو ذہن میں رکھ کر تمام ممالک نے بہت پہلے اپنے میدانوں میں بلیو ٹرف بچھا ڈالیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی ٹیموں کو دوسرے ملکوں میں نئی بلیو ٹرف پر ہونے والے ٹورنامنٹس میں شرکت کے لیے بھی بھیجا لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پنجاب اسپورٹس بورڈ تمام تر بلند بانگ دعووں کے باوجود لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں اس بلیو ٹرف کو بچھانے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستانی ہاکی ٹیم اولمپکس کی تیاری کے طور پر اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے جو بلیو ٹرف پر کھیلا جا رہا ہے۔

چوبیس مئی سے تین جون تک ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ، نیوزی لینڈ، بھارت، جنوبی کوریا، ارجنٹائن اور ملائشیا شریک ہیں۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کی پہلی بار قیادت سنبھالنے والے سہیل عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اولمپکس کو مدنظر رکھتے ہوئے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ پاکستانی ٹیم کو تیاری کا اچھا موقع فراہم کرے گا لیکن بلیو ٹرف پر پریکٹس نہ ہونا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ٹیمیں بلیو ٹرف پر کھیلنے کا تجربہ حاصل کر چکی ہیں اور وہ اس تجربے کے ساتھ ملائشیا پہنچیں گی اور انہیں صرف میچوں کی حکمت عملی بنانے کی فکر ہوگی جبکہ پاکستانی ٹیم نے بلیو ٹرف ابھی دیکھی تک نہیں ہے اس کے پاس بہت کم وقت ہے کہ وہ نئی اور انجانی بلیو ٹرف پر پریکٹس کر کے اس کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کر سکے۔

سہیل عباس نے کہا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ یہ نئی بلیو ٹرف سلو ہے اور اس میں اُچھال ہے۔

انگلینڈ میں جو ٹورنامنٹ اس نئی بلیو ٹرف پر کھیلا گیا اس میں کھلاڑی زخمی بھی ہوئے تاہم جب تک وہ اس پر خود نہ کھیلیں کوئی بات یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ ٹورنامنٹ سے پہلے جو بھی وقت مل رہا ہے اس میں وہ اس ٹرف پر پنالٹی کارنر کی زیادہ سے زیادہ پریکٹس کر کے خود کو تیار کرسکیں۔

سہیل عباس نے کہا کہ جس چیز کا آخر دیکھنا ہو اس کی ابتدا دیکھی جاتی ہے تاہم ابتدا غیرمعمولی نہیں کہی جاسکتی کیونکہ کھلاڑیوں کو بلیو ٹرف پر کھیلنے کا ابھی تک کوئی موقع نہیں مل سکا ہے اس کے علاوہ تمام کھلاڑی ابھی تک بحیثیت ٹیم ٹریننگ نہیں کرسکے ہیں کیونکہ ٹیم میں منتخب ہونے والے چھ جونیئر کھلاڑی اس وقت ملائشیا میں ہیں۔کوشش ہوگی کہ ٹورنامنٹ سے پہلے تمام کھلاڑی ذہنی طور پر مطابقت پیدا کر کے اچھے نتائج دے سکیں۔

سہیل عباس نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل ہاکی نہیں ہو رہی جبکہ حالیہ دنوں میں پاکستانی ٹیم بھی باہر جاکر کسی بڑی ٹیم سے میچز نہیں کھیلی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات سیدھی ہے کہ اگر وہ یا کوئی بھی تجربہ کار کھلاڑی کسی سکول ٹیم کے ساتھ مستقل کھیلتا رہے گا تو اس کے کھیل میں بہتری نہیں آئے گی البتہ سکول کی ٹیم اپنے کھیل میں ضرور بہتری لے آئے گی۔ یہی اصول انٹرنیشنل ہاکی میں بھی موجود ہے کہ بڑی ٹیموں کے خلاف سخت میچز کھیل کر آپ میں اعتماد اور کھیل میں بہتری آتی ہے۔ اپنے سے کمزور ٹیموں کے ساتھ کھیلتے رہنے کے بعد جب اچانک اولمپکس یا کسی بڑے ٹورنامنٹ میں بڑی ٹیم سامنے آجائے تو پھر آپ کو مشکل ہوتی ہے۔

سہیل عباس نے کہا کہ اولمپکس سے قبل پاکستانی ٹیم کو یورپ کا دورہ کرنا ہے امید ہے کہ ٹیم کو اس دورے سے فائدہ ہوگا۔

اسی بارے میں