بھارتی کرکٹ پر شکوک کے گہرے بادل

تصویر کے کاپی رائٹ IPL

اعتبار اٹھ جائے تو ہر چیز شک کی نظر سے دیکھی جانے لگتی ہے۔ کچھ یہی حال اس وقت بھارت میں کرکٹ کا بھی ہے۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ آخری گیند پر چھکے سے جتوائے گئے ہر میچ پر واہ واہ کی جائے یا پھریہ سوچا جائے کہ کہیں دال میں کالا تو نہیں۔

اظہرالدین اور اجے جدیجا پر پابندیوں کے بعد دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنے کرکٹروں کو اتنا کچھ دے رہا ہے کہ وہ کسی کے ہاتھوں میں نہیں کھیل سکتے۔

اس دوران میچ فکسنگ اور کچھ لو کچھ دو کا کہیں ذکر آ بھی رہا تھا تو صرف بالی وڈ میں جنت جیسی فلموں میں، لیکن چند روز قبل کسی فلمی کیمرے نے نہیں بلکہ میڈیا کے کیمرے نے جو کچھ دکھا دیا وہ بی سی سی آئی ہی نہیں بلکہ آئی سی سی کے بارے میں بھی یہ سوال چھوڑگیا ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود وہ چین کی بانسری تو نہیں بجا رہی؟

پانچ بھارتی کرکٹروں کو معطل کرنے کے بعد بی سی سی آئی پوری شدت کے ساتھ آئی پی ایل کو ’پوتر‘ قرار دینے میں مصروف ہے لیکن اس لیگ میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سامنے آنے والے تنازعات کے بعد بی سی سی آئی کے لیے لوگوں میں اس کی صاف شفاف ساکھ کا یقین دلانا آسان نہیں ہوگا۔

بھارت کے سینیئر صحافی پردیپ میگزین کا کہنا ہے ’ضروری تھا کہ آزادانہ کریمنل تحقیقات کرائی جاتیں۔انکم ٹیکس کا محکمہ حرکت میں آتا۔ بی سی سی آئی جو انکوائری کر رہا ہے وہ محض مذاق ہی ہوگی۔ چنئی سپر کنگز کے مالک بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن ہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ خود اپنے ہی خلاف تحقیقات کریں‘۔

لوگ للیت مودی کو نہیں بھولے ہیں جو دو سال پہلے تک آئی پی ایل میں سیاہ سفید کے مالک تھے لیکن اب بھارت جانے کے لیے تیار نہیں اور ان کے خلاف مبینہ طور پر مالی بےضابطگیوں کی لمبی چوڑی فہرست موجود ہے۔

للیت مودی کا معاملہ اگر صرف ایک انفرادی معاملہ سمجھ کر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تو اس رپورٹ سے کیسے پہلوتہی کی جا سکتی ہے جو صرف چار ماہ پہلے آئی سی سی کے اجلاس میں ہانگ کانگ کے سرکاری وکیل برٹرینڈ ڈی سپیویل نے پیش کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے آنے سے کرکٹ میں کرپشن کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور آئی پی ایل کی شکل میں میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ کے سابق سربراہ سر پال کنڈن نے بھی 2008 ء کی آئی پی ایل کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ لیگ شارجہ کے بعد کرکٹ میں کرپشن کے سب سے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔

آئی سی سی نے کئی ملین پونڈ کے بجٹ کے ساتھ کرپشن ختم کرنے کے لیے اینٹی کرپشن یونٹ قائم رکھا ہے لیکن ابھی تک وہ خود کسی کرکٹر کو گرفت میں نہیں لے سکا ہے بلکہ کرپشن میں ملوث کرکٹر اس کی جھولی میں آ گرے ہیں۔

ہنسی کرونئے کی بک میکروں کے ساتھ گفتگو دلّی کی پولیس نے پکڑی جس نے کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے کرپشن سکینڈل کو بے نقاب کیا۔ مارلن سموئلز بھی بک میکروں سے روابط پر ناگپور کی پولیس کے ہتھے چڑھے۔

پاکستانی کرکٹر برطانوی جریدے کے سٹنگ آپریشن کی زد میں آئے اور حالیہ بھارتی سکینڈل بھی ایک ٹی وی چینل کے اسی طرح کے ایک سٹنگ آپریشن کا نتیجہ ہے۔

آئی سی سی یہ کہہ کر اپنا دامن بچا جاتی ہے کہ ہر ملک کے مختلف فوجداری قوانین میں اس کے لیے خود آ گے بڑھ کر کرکٹ کرپشن کے خلاف آپریشن کرنا ممکن نہیں لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل اس دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔

عامر سہیل کے خیال میں آئی سی سی بین الاقوامی کرکٹ کے معاملات صحیح انداز میں چلانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔

’اگر ملکوں کے قوانین آئی سی سی کے آڑے آ رہے ہیں تو پھر کرکٹ کے معاملات کرکٹ بورڈز اپنے طور پر ہی چلائیں، آئی سی سی کا پھر کیا کام رہ جاتا ہے کیا اس نے صرف مارکیٹنگ ایجنسی کھولی ہوئی ہے‘۔

بھارتی کرکٹ سکینڈل کے بعد یہ سوال شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ جب ایک عام ٹی ٹوئنٹی میچ بھی پس پردہ قوتوں سے محفوظ نہیں تو پھر بڑے میچ کیسے ان کی زد سے بچ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں