فٹبال میں پنیلٹی شوٹ آؤٹ کے متبادل کی تلاش

football, penalty, shoot تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ دسویں مرتبہ ہے کہ یورپین کپ کے فائنل کا فیصلہ شوٹ آوٹ پر کیا گیا ہے۔

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ کوئی ایسا متبادل طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ فٹبال کے کھیل کا نتیجہ حاصل کرنے کے لیے پنیلٹی شُوٹ آؤٹ سے بچا جا سکے۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے تنظیم کے سالانہ اجلاس کے دوران کہا کہ جب کسی میچ کا فیصلہ پنیلٹی کِکس پر ہوتا ہے تو بطورِ ٹیم کھیلے جانے والے کھیل ’فٹ بال‘ کی اصل روح ختم ہو جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جرمنی کے ورلڈ کپ جیتنے والے کھلاڑی اور منیجر فرانز بیکن باوور کو کہا ہے کہ وہ اس کے لیے کوئی متبادل تلاش کریں۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کا کہنا تھا ’جب آپ پینلٹی ککس کے لیے جاتے ہیں تو فٹ بال میچ ایک سانحہ بن سکتا ہے‘۔

’ فٹ بال کو افراد کے مقابلے کا کھیل نہیں بننا چاہیئے۔ جب یہ پنیلٹی ککس کی طرف جاتا ہے تو فٹ بال کی اصل روح ختم ہو جاتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’امید ہے کہ فرانز بیکن باوور اپنے فٹ بال گروپ کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں گے تاہم ہوسکتا ہے کہ یہ ابھی تو نہیں لیکن مستقبل میں ہو جائے۔‘

اس مرتبہ چیمپئنز لیگ کے فائنل کا فیصلہ بھی پینلٹی ککس پر ہوا جس میں چیلسی نے بائرن میونخ کے کھیل پر حاوی رہنے کے باوجود فتح حاصل کر لی۔

یہ دسویں مرتبہ ہے کہ یورپین کپ کے فائنل کا فیصلہ شوٹ آوٹ پر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں