آسٹریلوی کھلاڑی پر چھیڑ چھاڑ کا کیس واپس

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

دلی ہائی کورٹ نے اس امریکی خاتون کو اپنا کیس واپس لینے کی اجازت دیدی جس نے آسٹریلوی کھلاڑی لیوک پومباش پر ہوٹل میں ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

زوہل حامد نامی امریکی خاتون نے عدالت کے باہر اس کیس کا تصفیہ کر لیا ہے۔

زوہل نے لیوک پر ان کے منگیتر ساحل پیرزادہ کے ساتھ مار پیٹ کا الزام بھی لگایا تھا۔

ان تینوں نے عدالت سے کہا کہ یہ ایک ’افسوسناک‘ واقعہ تھا اور ان لوگوں نے عدالت کے باہر معاملہ طے کر لیا ہے۔

کرکٹر لیوک کو اس مبینہ واقعہ کے اگلے روز جمعہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

یہ واقعہ گزشتہ جمعرات کو دلی ڈیئر ڈیولز اور رائل چیلنجرز بنگلور کے درمیان ہونے والے میچ کے بعد پیش آیا۔

خاتون نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ لیوک پومباش اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ، جنہیں وہ بھی جانتی تھیں، ان کے کمرے میں آگئے۔

تھوڑی دیر بعد جب خاتون سونے کے لیے اپنے کمرے میں جانے لگیں تبھی لیوک پومباش بھی ان کے پیچھے گئے اور بعد میں مبینہ طور پر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور بدتمیزی کی۔

جب خاتون کے بوائے فرینڈ نے مداخلت کی تو پومباش نے ان کی پٹائی کی۔

لیوک پومباش کا کہنا ہے کہ وہ خاتون کی مرضی سے ان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔

لیوک انڈین پریمئیر لیگ میں بنگلور کے لیے کھیلتے ہیں۔

اسی بارے میں