آئی پی ایل فائنل: کلکتہ نائٹ رائیڈرز کی فتح

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپر کنگز کی اننگز کے بہترین بلے باز شوریش رائنا تھے۔

آئی پی ایل کے پانچویں سیزن کے فائنل میں کلکتہ نائٹ رائیڈرز نے چنئی سپر کنگز کو ہرا کر پہلی مرتبہ ٹائٹیل جیت لیا ہے۔

آئی پی ایل کے پانچویں سیزن کا فائنل مقابلہ اتوار کو کولکتہ نائٹ رائڈرز اور چنئی سپرکنگز کے درمیان کھیلا گیا جہاں سپر کنگز نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے کلکتہ نائٹ رائیڈرز کو جیتنے کے لیے ایک سو اکانوے رنز کا ہدف دیا ہے۔

کلکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے غیر معروف بیٹسمین منوندر بسلاس نے انتہائی جارحانہ اننگز کھیل کر چنئی سپر کنگز مسلسل تیسری بار ٹائیٹل جیتنے سے محروم کر دیا۔

منوندر بسلاس نے چھیاسی رنز کی عمدہ اننگ کھیل کلکتہ نائٹ رائیڈز کی فتح کو یقینی بنا دیا۔ ژاک کیلس نے منوندر بسلاس کا عمدہ ساتھ نبھایا اور سنگلز لے کر سٹرائیک منوندر بسلاس کے حوالے کرتے رہے۔

اس سے پہلے سپر کنگز کے بلے بازوں نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ اوپنرز مائیکل ہسّی اور مرلی ویجے نے بالترتیب چوون اور بیالیس رنز بنائے۔ سپر کنگز کی اننگز کے بہترین بلے باز شوریش رائنا تھے جنہوں نے اٹھتیس گیندوں پر تہتر رنز بنائے۔

نائٹ رائڈرز کی جانب سے شکیب الحسن، ژاک کیلس اور رجت بھاٹیا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

اس سے پہلے چنئی سپرکنگز نےٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

چنئی سپرکنگنس نے گزشتہ آئی پی ایل کا فائنل جیتا تھا اور اس بار بھی ٹیم کی کمان مہندر سنگھ دھونی کے ہاتھ میں ہے جبکہ گوتم گمبھیر کولکتہ نائٹ رائڈرز کی کپتانی کر رہے ہیں۔

اس سے قبل فالو اپ میچ میں میں کولکتہ کی ٹیم نے دلی کی ٹیم ڈہلی ڈئیرڈیولز کو ہرایا تھا جبکہ چنئی کا مقابلہ ممبئی کی ٹیم سے ہوا تھا۔ چنئی نے پھر ’ایلیمینیٹر‘ میچ میں ممبئی کو شکست دے دی اور اس کے بعد دہلی کو شکست دے کر دھونی کی ٹیم نے فائنل میں جگہ بنائی تھی۔

فائنل سے ایک دن پہلے دھونی نے اپنی ٹیم کی تیاری سے متعلق کہا ’فائنل کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ہمارے کھلاڑی دباؤ سے کس طرح نمٹتے ہیں۔ یہ فائنل میچ ہے اس لئے اس مقابلے میں سب سے زیادہ ٹینشن رہے گی۔‘

وہیں کولکتہ نائٹ رائڈرز کے کپتان گوتم گمبھیر کا کہنا تھا ’جب ٹیم فائنل میں پہنچتی ہے تو مقابلہ برابری کا ہوتا ہے۔ ہم خود کو کمزور ٹیم نہیں سمجھتے اور ہمارے کھلاڑی بہترین کارکردگی کے لئے تیار ہیں۔‘

ایک نظر ڈالتے ہیں دونوں ہی ٹیموں کے ان کھلاڑیوں پر جنہوں نے اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے:

چنئی سپرکنگس کے سٹار کھلاڑی:

دھونی کی کپتانی میں چنئی چوتھی بار فائنل میں ہے اور فائنل کے خطاب کی ہیٹ - ٹرك بنانے کی تیاری میں ہے۔ دھونی نے اس سیزن سست آغاز کیا لیکن ممبئی کے خلاف سنچری لگا کر انہوں نے ایسے وقت کے بلے کا زور دکھایا جب ٹیم کو ان کی ضرورت تھی۔

مرلی وجے: دلی کی ٹیم کے خلاف سنچری لگا کر مرلی وجے نے بتا دیا ہے کہ وہ فارم میں واپس آنے پر کتنے خطرناک کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں۔ مرلی وجے پر کولکتہ کے سپنر سنیل نارنے کو روکنے کی بھی ذمہ داری ہوگی۔

کولکاتہ نائٹ رائڈڑز کے سٹار کھلاڑی:

گوتم گمبھیر - کپتان گمبھیر نے بہترین بلے بازی اور عقل مندی نے کولکتہ کو پہلی بار فائنل میں جگہ دلائی ہے۔ سولہ میچوں میں انہوں نے پانچ سو اٹھاسی رن بنائے اور زبردست فارم کے اشارہ دیا ہے۔

شکیب الحسن: بنگلہ دیش کے کپتان رہ چکے آل راؤنڈر شکیب الحسن کو کولکاتہ کی ٹیم کا بہترین کھلاڑی مانا جارہا ہے۔ پورے آئی پی ایل میں انہوں نے بلے بازوں کو قابو میں رکھا ہے اور بیٹنگ میں بھی کچھ ذمہ دار بہترین اننگ کھیلی ہیں۔

یوسف پٹھان: گزشتہ میچ میں چالیس رنز بنا کر پٹھان کولکتہ کی فتح کے ہیرو رہے تھے۔ کپتان گمبھیر کو ان پر مکمل بھروسہ ہے اور جب یوسف پٹھان کا بلا بولتا ہے تو بڑے بڑے گیند باز بھی خاموش ہوجاتے ہیں۔

اسی بارے میں