پاکستانی ایتھلیٹکس کا المیہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے سابق انٹرنیشنل ایتھلیٹ اور ان دنوں کوچنگ سے وابستہ غفران حسین کے خیال میں پاکستانی ایتھلیٹس کا بنیادی مسئلہ معاشی ہ

عبدالخالق، غلام رازق، مبارک شاہ، محمد نواز اور محمد اقبال جیسے نام صرف کتابوں میں ہی رہ گئے ہیں اور ٹریک اینڈ فیلڈ پر ان کی شاندار کامیابیاں اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔

آخر وہ کیا اسباب ہیں کہ کامن ویلتھ گیمز اور ایشیئن گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس اب دور دور تک دکھائی نہیں دیتے؟ سیف گیمز میں بھی جیت مل جائے تو آسمان سر پر اٹھالیا جاتا ہے اور ایسے میں اولمپکس کے ’وائلڈ کارڈ‘ کی حیثیت کسی طور جیک پوٹ سے کم نہیں رہی۔

پاکستان کے سابق انٹرنیشنل ایتھلیٹ اور ان دنوں کوچنگ سے وابستہ غفران حسین کے خیال میں پاکستانی ایتھلیٹس کا بنیادی مسئلہ معاشی ہے اور اپنی بات کو منوانے کے لیے ان کے پاس معقول وجوہات بھی ہیں۔

’ایتھلیٹکس ایک بور کھیل ہے جس میں دلچسپی کا پہلو بہت کم ہے اسی لیے ایک نئے ایتھلیٹ کو اس جانب راغب کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ ایتھلیٹ جب مختلف مرحلے طے کرتا ہوا قومی چیمپئن بن جاتا ہے تواسے وکٹری سٹینڈ پر صرف ایک تمغہ اور ایک سال بعد کی ترقی ملتی ہے۔ آپ زیادہ سے زیادہ بیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے ایتھلیٹ سے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ملک سے باہر جائے اور تمغہ لے کر آئے؟ وہ تو بیچارہ اپنا گھر بھی نہیں چلاسکتا۔‘

غفران حسین جو شاٹ پٹ کے قومی ریکارڈ ہولڈر اور سیف گیمز کے دو بار کے گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں کہتے ہیں کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ایتھلیٹس گھر جانے کے لیےکرائے کی فکر میں رہتے ہیں۔

’گزشتہ دنوں منعقدہ قومی ایتھیلٹکس چیمپئن شپ میں مدتوں بعد وکٹری سٹینڈ پر آنے والے ایتھلیٹس کو پانچ ہزار تین ہزار اور دو ہزار روپے کے نقد انعامات دیے گئے اور یقین جانیئے ایتھلیٹس شکر ادا کررہے تھے کہ گھر جانے کا کرایہ تو ملا۔‘

ایتھلیٹس کی ٹریننگ میں ساز و سامان اور خوراک کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے اور غفران حسین اس پہلو کو بھی بڑی تکلیف سے اجاگر کرتے ہیں۔

’محدود آمدنی والا ایتھلیٹ اپنی ٹریننگ کے لیے ضروری خیال کی جانے والی خوراک اور فوڈ سپلیمنٹس کا خرچ کیسے برداشت کرسکتا ہے جو ماہانہ دس ہزار روپے ہے۔ کئی ایتھیلٹس جو فوڈ سپلیمنٹس نہیں لے سکتے وہ ممنوعہ قوت بخش ادویات کا سہارا لے لیتے ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایتھلیٹس کے جوتے کی تو اس کی قیمت سو ڈالرز ہے جو ایک مہینے میں خراب ہوجاتے ہیں جس کے بعد ایتھلیٹس بیڈمنٹن شوز اور دوسرے شوز استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔‘

پاکستان میں صرف سات ٹارٹن ٹریک ہیں لیکن غفران حسین کو گلہ ہے کہ ہر ٹریک ہر ایتھلیٹ کے لیے کھلا ہوا نہیں ہے۔

’ کراچی لاہور اور پشاور کے ٹارٹن ٹریک عام کھلاڑی کی دسترس میں ہیں لیکن وہاں بھی جانے کے لیے پہلے اجازت ضروری ہوتی ہے۔ باقی ٹریکس یا تو آرمی کے ہیں یا پھر پاکستان سپورٹس بورڈ کا اس پر کنٹرول ہے۔‘

اسی بارے میں