بھارتی ہاکی لیگ کھیلنے پر جرمانے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کھلاڑیوں کو اس فیصلے کےخلاف اپیل کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھارتی ہاکی لیگ میں شرکت کرنے والے آٹھ کھلاڑیوں پر جرمانے عائد کردیے ہیں۔

ریحان بٹ اور شکیل عباسی پر دس دس لاکھ روپے جبکہ ذیشان اشرف، وسیم احمد، مدثر علی خان، طارق عزیز، عدنان مقصود اور عمران وارثی پر ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

ان تمام کھلاڑیوں نے بھارت میں ہونے والی ورلڈ ہاکی سیریز میں حصہ لیا تھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ یہ ہاکی لیگ ایف آئی ایچ سے منظور شدہ نہیں تھی اور اس نے اس میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کے معاملات اپنی انضباطی کمیٹی کے سپرد کر دیے تھے جس نے اس ماہ ان کھلاڑیوں کو طلب کرکے ان کا موقف بھی سنا تھا۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے شکیل عباسی اور ریحان بٹ کو زیادہ قصور وار قرار دیا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اگر کھلاڑیوں نے جرمانے ادا نہیں کیے توان پر ایک سال تک قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کی پابندی عائد کردی جائے گی۔

کھلاڑیوں کو اس فیصلے کےخلاف اپیل کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے کھلاڑیوں پر جرمانے عائد کیے جانے کی ای میل جاری کیے جانے کے بعد جب بی بی سی نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیا سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر حیرت میں ڈال دیا کہ انہیں کمیٹی کے فیصلے کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ جب رپورٹ دیکھ لیں گے اس کے بعد ہی کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس بارے میں باضابطہ ای میل جاری کرچکی ہے تو قاسم ضیا کا کہنا تھا کہ بہتر ہوگا کہ آپ پی ایچ ایف کے سیکریٹری آصف باجوہ سے بات کریں ہوسکتا ہے کہ انہوں نے وہ رپورٹ جاری کی ہو۔

یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کیا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی منظوری کے بغیر بھی اہم فیصلے میڈیا کو جاری کیے جا سکتے ہیں؟

اسی بارے میں