’ہمارے بھی کچھ سپنے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رابعہ عاشق کو وائلڈ کارڈ انٹری پر لندن اولمپکس کے آٹھ سو میٹرز کے ایونٹ میں شرکت کی خوش خبری مل چکی ہے

رابعہ عاشق کے لیے لندن اولمپکس میں شرکت کسی خواب کی طرح ہے لیکن وہ اس خواب کی تعبیر اچھی کاررکردگی سے حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

ماریہ مراتب نے ابھی تک کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں شرکت نہیں کی ہے لیکن کہتی ہیں کہ جب وقت آئے گا تو وہ مایوس نہیں کریں گی۔

یہ دونوں ٹریک اینڈ فیلڈ کی دنیا سے تعلق رکھنے والی ایتھلیٹس ہیں جو واپڈا کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی سطح پر خود کو منواچکی ہیں ان میں سے رابعہ عاشق کو وائلڈ کارڈ انٹری پر لندن اولمپکس کے آٹھ سو میٹرز کے ایونٹ میں شرکت کی خوش خبری مل چکی ہے۔

’میری خوشی کی انتہا نہیں کہ میں کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کروں گی۔ میری دلی خواہش ہے کہ میں اولمپکس میں تمغہ جیتوں۔ ظاہر ہے کہ ہماری ٹریننگ اور دنیا کے بڑے ممالک کی ٹریننگ میں بہت فرق ہے پھر بھی میری کوشش ہوگی کہ میری کارکردگی اچھی رہے۔‘

لاہور سے تعلق رکھنے والی رابعہ عاشق آٹھویں جماعت میں تھیں کہ واپڈا کے کوچ زاہد نے ان میں موجود صلاحیتوں کودیکھ کر انہیں لمبی ریس کے لیے ایسا تیار کیا کہ پھر رابعہ نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور اس وقت وہ پانچ ہزار اور دس ہزار میٹرز کی قومی چیمپئن ہیں اور آٹھ سو میٹرز میں اپنی ہی کوچ بشریٰ پروین کا دو منٹ صفر آٹھ سیکنڈز کا ریکارڈ توڑنے کے لیے پرتول رہی ہیں۔

’میرے کوچز نے مجھ سے کہا کہ میں لمبے فاصلے کی ریس میں مہارت پیدا کروں لہذا میں نے اسی کی ٹریننگ کی۔ میری کاررکردگی میں بہتری کی ایک وجہ یہ ہے کہ میں مرد ایتھلیٹس کے ساتھ سخت ٹریننگ کرتی ہوں۔‘

رابعہ عاشق نے بیرون ملک چند ایونٹس میں حصہ لیا ہے لیکن ملک سے باہر ٹریننگ کی حسرت ہی رہی ہے۔

’ٹریننگ کے لیے ملک سے باہر بھیجنے کی صرف باتیں ہوتی ہیں بھیجا نہیں جاتا۔اگر باقاعدگی سے ٹریننگ کے اچھے مواقع ملیں تو پاکستانی لڑکیاں بھی اتنی صلاحیت ہیں کہ اچھے نتائج دے سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماریہ مراتب ملتان کے قریب واقع کبیر والا سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور تین تمغے حاصل کیے

ماریہ مراتب ملتان کے قریب واقع کبیر والا سے تعلق رکھتی ہیں اور چارسو میٹرز ہرڈلز ان کی پسندیدہ ریس ہے۔ اسی سال انہوں نے پہلی مرتبہ قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں حصہ لیا اور تین تمغے حاصل کر ڈالے لیکن یہ ان کی منزل نہیں۔

’مجھے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا شدت سے انتظار ہے۔ مجھے خود پر مکمل اعتماد ہے کہ میں انٹرنیشنل ایونٹ میں بھی تمغہ جیت سکتی ہوں صرف موقع ملنے کی دیر ہے۔‘

ماریہ مراتب نے جب قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں تین تمغے جیتے تو انہیں پروموشن اور انعام سے زیادہ فکر کسی اور چیز کی تھی۔

’میں نے پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر سے کہا کہ وہ ملتان میں ٹارٹن ٹریک لگوادیں کیونکہ اس کے نہ ہونے سے ٹریننگ میں بہت تکلیف ہوتی ہے میں نےاپنی تمام ٹریننگ لاہور اور اسلام آباد میں کی ہے۔ اگر ملتان میں بھی ٹریک ہو تو کاررکردگی میں مزید بہتری آسکتی ہے۔‘

سابق انٹرنیشنل ایتھلیٹ اور اس وقت واپڈا کے کوچ غفران حسین اپنی خواتین ایتھلیٹس کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔

’نجمہ، ماریہ مراتب، رابعہ عاشق اور مبین اختر کی حالیہ کاررکردگی ان کے روشن مستقبل کا پتہ دے رہی ہے ان چاروں میں ٹیلنٹ موجود ہے اور ایک مربوط پروگرام کے تحت ان کی ٹریننگ کی جائے تو یہ ایشیا کی سطح پر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا سکتی ہیں۔‘

اسی بارے میں